صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 541
صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۴۱ ۴۸- كتاب الرهن اس آیت سے ظاہر ہے کہ سفر سے متعلقہ حکم بطور استثناء ہے نہ کہ اصل حکم کہ اسے بطور قاعدہ کلیہ قرار دیا جائے اور اس سے بحالت اقامت عدم جواز رہن کا استدلال کیا جائے ۔ یہ غرض ہے اس باب کے قائم کرنے کی ۔ جملہ الرَّهْنُ فِي الْحَضَرِ کی ترکیب اس امر پر دال ہے کہ رہن کا اصل تعلق تو دراصل اقامت سے ہے۔ کیونکہ روزمرہ کے لین دین کی عام ضرورت بود و باش میں ہی پیش آتی ہے۔ اس لئے رہن کی استثنائی اجازت کو سفر کی حالت سے مخصوص سمجھنا اور بحالت اقامت نظر انداز کرنا معقول استدلال نہیں۔ مَا أَصْبَحَ لِآلِ مُحَمَّدٍ اللهِ إِلَّا صَاعٌ وَلَا أَمْسَى وَإِنَّهُمْ لَتِسْعَةُ أَبْيَاتٍ : اس سے ظاہر ہے کہ ابتدائی زمانہ ہجرت میں اکثر اوقات فقر وفاقہ ہی کی حالت رہتی تھی کہ صبح کھانے کو ملتا تو شام خالی پیٹ گزرتی اور شام کے وقت میسر ہوتا تو صبح کے لئے کچھ نہ ہوتا۔ یہی حال دوسرے مہاجرین کا تھا۔ اپنی تنگدستی کے حالات میں ادھار پر خوراک حاصل کرنے کی آسان راہ غلط استدلال سے بند کر دینا اس سہولت کے سراسر خلاف ہے جو آیت کا اصل مدعا اور موضوع ہے۔ اس تعلق میں کتاب البیوع باب ۱۴ بھی دیکھئے۔ بَاب ۲ : مَنْ رَهَنَ دِرْعَهُ جس نے اپنی زرہ رہن رکھی ٢٥٠٩ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۵۰۹ مسدّد نے ہمیں بتایا کہ عبد الواحد ( بن عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ: تَذَا كَرْنَا زیاد) نے ہمیں خبر دی کہ اعمش نے ہم سے بیان عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ وَالْقَبِيلَ فِي کيا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم (شخصی) کے پاس کوئی چیز السَّلَفِ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ ادھار خرید کرکوئی مملوکہ چیز گرور چیز گرو ر کھنے اور ضمانت دینے عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ کا ہم نے ذکر کیا تو ابراہیم نے کہا: اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے ہمیں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ بتایا کہ بی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے مقررہ يَهُوْدِيَ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُه معیاد تک کے لئے ادھار پر کچھ نتاج لیا اور آپ نے اس کے پاس اپنی زرہ رہن رکھی ۔ اطرافه: ۲۰۱۸ ، ۲۰۹۶، ۲۲۰۰ ، ۲۲۵۱، ٢٢٥۲، ٢٣٨٦ ، ٢٥١٣، ٢٩١٦، ٤٤٦٧ تشریح : مَنْ رَهَنَ دِرْعَهُ : اس باب میں ایک اور سند سے سابقہ روایت ہی کا اعادہ کر کے شدت ضرورت کی طرف توجہ منعطف کی ہے۔ خود حفاظتی کے لئے ہتھیار نہایت ضروری ہیں جو شخص اپنی حفاظت کا سامان رہن رکھتا ہے اس کی انتہائی احتیاج اور مجبوری ظاہر ہے، خ اور مجبوری ظاہر ہے، خصوصاً جبکہ مخالفت کی وجہ سے حالات ۔ پر خطر ہوں۔