صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 529 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 529

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۲۹ ۴۷- كتاب الشركة وَصُرِفَتِ الطَّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ۔ جب حدیں مقرر ہو جائیں اور راستے علیحدہ علیحدہ نکال دیئے جائیں تو پھر کوئی حق شفعہ نہیں رہتا۔ اطرافه: ۲۲۱۳، ۲۲۱۷، ٢٢۵۷، ٢٤٩٦، ٦٩٧٦۔ تشريح : الشَّرِكَةُ فِي الْأَرَضِينَ وَغَيْرِهَا: جمہور کے نزدیک مکان و مان وزمین میں شراکت اور ان کی تقسیم جائز ہے۔ بعض فقہاء چھوٹے مکان کی تقسیم درست نہیں سمجھتے کیونکہ چھوٹے مکان کی تقسیم سے اس کی افادیت ختم ہو جاتی ہے اور کوئی شریک بھی اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۶۵) ہاں اس کی قیمت کا اندازہ شرکاء کی باہمی رضامندی سے کرنے کے بعد بذریعہ قرعہ کسی ایک شریک کو دیا جا سکتا ہے۔ اس تعلق میں كتاب الشفعه بابا، روایت نمبر ۲۲۵۷ کی تشریح بھی دیکھئے۔ بَاب : إِذَا قَسَمَ الشُّرَكَاءُ الدُّوْرَ أَوْ غَيْرَهَا فَلَيْسَ لَهُمْ رُجُوْعٌ وَلَا شُفْعَةٌ جب شریک گھروں وغیرہ کو تقسیم کر لیں تو پھر انہیں نہ اس تقسیم سے پھرنے کا حق ہوگا نہ شفعہ کا ٢٤٩٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۲۴۹۶ مست دنے ہمیں بتایا کہ عبدالواحد نے ہم عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ زہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشَّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسی چیز يُقْسَمُ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ وَصُرفت میں جو تقسیم کی گئی ہو شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ مگر حق الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ۔ جب حدیں مقرر ہو جائیں اور راستے الگ الگ قائم کر دیئے جائیں تو پھر کوئی شفعہ نہیں۔ اطرافه ۲۲۱۳، ۲۲۱۷، ٢٢۵۷، ٢٤٩٥، ٦٩٧٦۔ تشريح : إِذَا قَسَمَ الشَّرَكَاءُ الدُّورَ أَوْ غَيْرَهَا فَلَيْسَ لَهُمْ رُجُوعٌ وَلَا شُفَعَةٌ : تمام فقہاء میں یہ امر مسلم ہے کہ کسی مشتر کہ جائیداد پر شفعہ کا حق اس کے تقسیم ہونے سے پہلے پہلے ہے۔ تقسیم ہو جانے کے بعد شفعہ کا کوئی حق نہیں۔ الفاظ فَلَا شُفَعَةَ سے عدم رجوع ( یعنی تقسیم سے روکشی نہ کرنے ) کا بھی ضمنا استدلال کیا گیا ہے۔ ورنہ جائیداد مشترکہ کو تقسیم کئے جانے کی غرض ہی باطل ہو جائے گی ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحہ ۶۰ )