صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 528
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۲۸ ۴۷- كتاب الشركة شراکت کی وجہ سے ضائع ہونے والے حقوق اور ان سے متعلقہ احکام بیان کرنے میں امام بخاری نے یتامی کے حقوق کا بیان مقدم کیا ہے؛ اس لئے کہ ان کے ضائع ہونے کا زیادہ اندیشہ ہے۔ عنوان باب میں وارثوں کا ذکر خصوصیت سے نمایاں کیا گیا ہے کہ اکثر وہی یہ حقوق شراکت کے بہانہ سے ضائع کرنے و ضائع کرنے والے ہوتے ہیں۔ جس استثنائی اجازت شراکت کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں ہے ؟ اُس کے ضمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْيَعْمَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ طَ وَإِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَاعْنَتَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (البقرہ : (۲۲) اور یہ لوگ تجھ سے یتامی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو : ان کی اصلاح بہترین ( عمل ) ہے اور اگر تم ان سے مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں۔ اور اللہ اسے خوب جانتا ہے جو بگاڑنے والا ہے اور جو اصلاح کرنے والا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا۔ اللہ یقیناً عزیز اور حکیم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی دو صفتیں بیان کر کے توجہ دلائی ہے کہ تمہارے لئے قیموں سے سلوک مخالطت میں صفت عزیزیت اور صفت حکیمیت ہمیت سے متصف ہونے کا نے کا بہترین موقع ہے ۔ صفت عزیزیت غلبہ پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام کاموں میں حسن واحسان کا پہلو نمایاں ہے حتی کہ غضب و انتقام کے افعال میں بھی رحمت غالب ہوتی ہے اور صفت حکیمیت بر محل فعل اور دور رس نیک نتائج پر دال ہے اور حکیمیت کے معنوں میں اسباب و علل سے کما حقہ واقفیت اور عمل میں استواری اور پختہ کاری کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ ان دو صفتوں سے سمجھایا گیا ہے کہ مخالطت کی صورت میں نیکی کا پہلو غالب ہے اور مخالطت بقدر ضرورت اور بر حل ہو اور یتیموں کے اموال میں جو تصرف بھی کیا جائے اس میں حسن و احسان اور رحمت کا پہلو غالب اور اچھا نتیجہ پیدا کرنے والا ہے۔ مندرجہ بالا حدیث میں آیت کی تشریح حضرت عائشہ کی ہے۔ اس سے شراکت مخالفت کی ناجائز صورت واضح ہے۔ باب ۸ : الشَّرِكَةُ فِي الْأَرَضِينَ وَغَيْرِهَا زمینوں وغیرہ میں شراکت کا بیان ٢٤٩٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۴۹۵: عبد اللہ بن محمد (مسندی ) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ که هشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا معمر نے ہمیں خبر عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ دی۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّمَا جَعَلَ النَّبِيُّ ابو سلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ ایسی چیز میں جس کی تقسیم نہ ہوئی ہو شفعہ کا حق رکھا ہے۔