صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 523 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 523

صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۲۳ ۴۷- كتاب الشركة عَلَى مَنْ فَوْقَهُمْ فَقَالُوا : لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا کے درجہ میں تھے۔ پھر انہوں نے کہا: اگر ہم اپنے ہی فِي نَصِيْبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا درجہ میں ایک سوراخ کر لیں اور جو اوپر کے درجہ میں فَإِنْ يَتْرُكُوْهُمْ وَمَا أَرَادُوا هَلَكُوا ہیں اُن کو تکلیف نہ دیں ( تو بہتر ہوگا ۔ اب اگر او پر جَمِيعًا وَإِنْ أَخَذُوْا عَلَى أَيْدِيهِمْ نَجَوْا کے درجہ والے انہیں وہ بات جس کا انہوں نے ارادہ وَنَجَوْا جَمِيعًا ۔ طرفه: ٢٦٨٦ کیا ہے، کرنے دیں تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو وہ بھی نجات پا جائیں اور دوسرے بھی سب نجات پا جائیں۔ تشريح : هَلْ يُقْرَعُ فِي الْقِسْمَةِ وَالِاسْتِهَامِ فِيهِ : مال واسباب جو از تم عرض ہوں اُن کے حصص شرکت کی تقسیم بعض وقت قرعہ اندازی سے کرنی پڑتی ہے کیونکہ ان کی قیمت کا اندازہ مشکل ہوتا ہے یا ان میں سے بعض اشیاء قابل تقسیم نہیں ہوتیں اور قیمت کا اندازہ کرنا آسان ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں بذریعہ قرعہ جس شریک کا نام نکلے، اسے وہ دی جائیں اور ان کی قیمت کے اندازے پر اس سے دوسرے شرکاء کو بحصہ رسدی نقد قیمت دلائی جائے۔ قرعہ اندازی سے تنازعہ کا سد باب مقصود ہوتا ہے۔ جیسا کہ کشتی کی مثال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے۔ یہ حدیث کتاب الشهادات باب ۳۰ روایت نمبر ۲۶۸۶ میں بھی منقول ہے۔ تق السَّهُمُ کے معنی ہیں حصہ اور اِسْتَهَم کے معنی ہیں حصہ لیا ۔ لفظ سهم مشتر کہ اشیاء میں حصہ پر دلالت کرتا ہے۔ عنوان باب بصورت استفتاء ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ قرعہ کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ بعض فقہاء کوفہ نے تیر کے ذریعے تقسیم والے قدیم طریق پر قیاس کر کے قرعہ اندازی ناجائز قرار دی ہے۔ زمانہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین عرب بتوں کی قربانی، ، نذرونیاز وغیرہ بذریعہ تیر تقسیم کرتے کرتے۔ تھے۔ چند نشان شده تیر ترکش میں ہوتے۔ ہر نشان ایک ایک م معین اندازے کا ہوتا ۔ حصہ داری تیری دار کسی تیر پر ہاتھ لگاتے اور اسے نکال را سے نکال کر پھر اس نشان کے مطابق گوشت وغیرہ تقیہ تقسیم کیا جا کیا جاتا ۔ اس تیر کا نام زلم رکھا گیا تھا۔ قرآن مجید نے یہ مشرکانہ طریق تقسیم ممنوع قرار دیا ہے۔ فرماتا ہے: رماتا ہے: وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ۔ (المائدہ:۴) یعنی ( تم پر حرام کیا گیا ہے ) وہ جانور بھی جو بت کدہ پر ذبح کیا جائے اور تیروں کے ذریعہ تقسیم بھی۔ یہ نافرمانی کی باتیں ہیں۔ دوسری جگہ فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ : ۹۱) اے مومنو! شراب اور جوا اور بہت اور قرعہ اندازی کے تیر محض نا پاک باتیں اور شیطانی کام ہیں ، سو تم ان سے بچھوتا تم کامیاب ہو۔ عربی میں سہم کے معنی بھی تیر کے ہیں ، مگر زلم خاص مشر کا نہ تقسیم کا تیر تھا۔ عنوان باب میں کسی خاص شئے کی تقسیم کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ الفاظ فِی الْقِسْمَةِ سے مطلق تقسیم بذریعہ قرعہ کا سوال اُٹھا کر اس کے جواز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔