صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 506
صحيح البخاری جلدم تشریح: ۵۰۶ ۴۶ - كتاب المظالم إِذَا كَسَرَ قَصْعَةً اَوْ شَيْئًا لِغَيْرِهِ : اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے نقصان پورا کیا اور اگر آپ تلافی نہ بھی کرتے تو وہ ایک گھریلو معاملہ تھا۔مگر آپ نے یہ ایک معمولی سا نقصان بھی گوارا نہیں فرمایا۔امام بیہقی" کے مطابق دونوں پیالے خود آنحضرت یہ کی ملکیت تھے۔اس کے یہ الفاظ ہیں: بِأَنَّ الْقَصْعَتَيْنِ كَانَتَا لِلنَّبِي الله فِي بَيْتَى زَوْجَعَيْهِ۔* (فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۵۶) آپ نے ٹوٹا ہوا پیالہ جوڑ کر توڑنے والی بیوی کو دیا کہ وہ خود استعمال کرے اور اس کا سالم پیالہ دوسری بیوی کے گھر بھجوا دیا۔جہاں سے کھانا بطور ہدیہ آیا تھا۔روایت مندرجہ کیلئے کتاب النکاح باب ۰۷ اروایت نمبر ۵۲۲۵ بھی دیکھئے۔باب ٣٥ : إِذَا هَدَمَ حَائِطًا فَلْيَبْنِ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا اگر کوئی دیوار گرا دے تو چاہیے کہ ویسی ہی بنا دے ٢٤٨٢: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۲۴۸۲ مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ جریر جَرِيْرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بن حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن سیرین سے، سِيْرِيْنَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَسَلَّمَ: كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ بنى اسرائیل میں ایک آدمی تھا۔اُسے جریج کہتے تھے۔وہ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ يُصَلِّي فَجَاءَتْهُ أُمُّهُ نماز پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں اُس کی ماں آئی اور اس نے اس کو بلایا۔اس نے اس کو جواب نہ دیا اور کہنے لگا: میں فَدَعَتْهُ فَأَبَى أَنْ يُجِيْبَهَا فَقَالَ: أُجِيْبُهَا اسے جواب دوں یا نماز پڑھوں۔پھر وہ کوئی اور اس نے أَوْ أَصَلَّي؟ ثُمَّ أَتَتْهُ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ لَاَ کہا:اے میرے اللہ ! اسے نہ ماریو جب تک کہ تو اسے تُمِنْهُ حَتَّى تُرِيَهُ وُجُوْهَ الْمُؤْمِسَاتِ کچنوں کا منہ نہ دکھا دے۔اور جریج اپنے عبادت خانہ وَكَانَ جُرَيْجٍ فِي صَوْمَعَتِهِ فَقَالَتِ میں تھا۔ایک عورت نے کہا: میں جریج کو ضرور بہکاؤں امْرَأَةٌ: لَأَفْتِنَنَّ جُرَيْبًا فَتَعَرَّضَتْ لَهُ گی۔چنانچہ اس نے اس سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور فَكَلَّمَتْهُ فَأَبَى فَأَتَتْ رَاعِيًا فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ اُس سے باتیں کیں۔وہ نہ مانا۔وہ ایک چرواہے کے نَّفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ : هُوَ مِنْ پاس گئی اور اُس سے بدفعلی کی اور وہ ایک لڑکا جنی۔سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الغصب، باب ردّ قيمته ان كان من ذوات القيم، جزء 1 صفحه ۹۶)