صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 504 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 504

صحيح البخاری جلدم ۵۰۴ باب ۳۳ : مَنْ قَاتَلَ دُوْنَ مَالِهِ جو شخص اپنا مال بچانے کے لئے لڑے ٤٦ - كتاب المظالم ٢٤٨٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ۲۴۸۰: عبد اللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ سعید حَدَّثَنَا سَعِيْدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ نے جو کہ ابو ایوب کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔انہوں نے حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ کہا: ابوالاسود ( محمد بن عبدالرحمن ) نے مجھے بتایا۔انہوں عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت عبد اللہ بن عمرو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے کہ جو شخص اپنا مال بچاتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔فَهُوَ شَهِيدٌ۔تشریح: مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ : اسلام نے بغیر استثناء مذہب و ملت ہر شخص کو دفاع کا حق دیا ہے جب اُس کی جان و مال و عزت خطرے میں ہوں اور سوائے مقابلہ ودفاع کے اور کوئی چارہ نہ ہو۔یہی مذہب امام شافعی کا ہے۔جمہور نے حملہ ہونے کی حالت میں بغیر کسی قید و شرط کے دفاع کی اجازت دی ہے۔امام اوزاعی کی رائے اس بارہ میں یہ ہے کہ حالات کی رعایت ضروری ہے۔مثلاً اگر جماعت کا شیرازہ امام کی وجہ سے منظم ہو تو اس کے ذریعے سے دفاع ہوگا ور نہ بصورت دیگر مضر۔اُن کے نزدیک ایسی حالت میں صبر سے کام لینا چاہیے۔ابن بطال کی رائے ہے کہ ابواب مظالم کے ضمن میں مذکورہ بالا حدیث کا ذکر کرنے سے امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ اگر دفاع سے حملہ آور زخی یاقتل ہو جائے تو دفاع کرنے والے پر دیت وغیرہ عائد نہ ہوگی۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۵۳-۱۵۴) عنوان باب من سے قائم کر کے جملہ ادھورا چھوڑا گیا ہے۔امام ابن حجر کے نزدیک فقرہ مَا حُكْمُهُ اور علامہ عینی کے نزدیک فقرہ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ یہاں مقدر ہے جس سے مبتداء کی خبر مکمل کی گئی ہے۔عینی کا استنباط مندرجہ بالا مشہور حدیث سے ہے جو متعد د ثقہ راویوں سے منقول ہے۔ایک روایت میں ہے: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ مَظْلُومًا فَلَهُ الْجَنَّةُ اور کسی روایت میں ہے: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۵۳٬۱۵۲) (عمدۃ القاری، جز ۳۰ صفری ۳۳-۳۵) ان روایتوں کا مفہوم ایک ہی ہے کہ جو شخص مظلوم ہو اور ظلم کے دفاع میں مارا جائے تو وہ شہید اور جنت میں داخل ہوگا۔لیکن امام بخاری نے عنوان باب بجائے قتل کے قائل اختیار کیا ہے اور جملہ شرطیہ کا جواب بھی محذوف کر دیا گیا ہے۔جس کی جان و مال اور عزت خطرے میں ہوا اور اُس پر حملہ کیا گیا ہو اور اس حق میں مشرک عیسائی اور مسلم وغیرہ سب برابر ہیں اور بغیر (سنن النسائي، كتاب تحريم الدم، باب من قتل دون ماله (سنن النسائی، كتاب تحريم الدم، باب من قاتل دون مظلمته )