صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 504
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۰۴ ۴۶ - كتاب المظالم باب ۳۳ : مَنْ قَاتَلَ دُوْنَ مَالِهِ جو شخص اپنا مال بچانے کے لئے لڑے ٢٤٨٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ ۲۴۸۰ : عبد اللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ سعید حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : نے جو کہ ابوایوب کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ انہوں نے حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ کہا: ابو الاسود ( محمد بن عبدالرحمن ) نے مجھے بتایا۔ انہوں عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت عبد اللہ بن عمرو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ فَهُوَ شَهِيدٌ۔ جو شخص اپنا مال بچاتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔ تشریح : مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ: اسلام نے بغیر اتنا مذہب وملت ہرشخص کو دفاع کاحق دیا ہے جب اس کی جان و مال وعزت خطرے میں ہوں اور سوائے مقابلہ و دفاع کے اور کوئی چارہ نہ ہو۔ یہی مذہب امام شافعی کا ہے۔ جمہور نے حملہ ہونے کی حالت میں بغیر کسی قید و شرط کے دفاع کی اجازت دی ہے۔ امام اوزاعی کی رائے اس بارہ میں یہ ہے کہ حالات کی رعایت ضروری ہے۔ مثلاً اگر جماعت کا شیرازہ امام کی وجہ سے منتظم ہو تو اس کے ذریعے سے دفاع ہوگا ورنہ بصورت دیگر مصر ۔ اُن کے نزدیک ایسی حالت میں صبر سے کام لینا چاہیے۔ ابن بطال کی رائے ہے کہ ابواب مظالم کے ضمن میں مذکورہ بالا حدیث کا ذکر کرنے سے امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ اگر دفاع سے حملہ آور زخمی یا قتل ہو جائے تو دفاع کرنے والے پر دیت وغیرہ عائد نہ ہوگی ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۵۳-۱۵۴) عنوان باب من سے قائم کر کے جملہ ادھورا چھوڑا گیا ہے۔ امام ابن حجر کے نزدیک فقرہ مَا حُکمہ اور علامہ عینی کے نزدیک فقرہ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ یہاں مقدر ہے جس سے مبتداء کی خبر مکمل کی گئی ہے۔ عینی کا استنباط مندرجہ بالا مشہور حدیث سے ہے جو متعد د ثقہ راویوں سے منقول ہے۔ ایک روایت میں ہے: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ مَظْلُومًا فَلَهُ الْجَنَّةُ اور کسى روایت میں ہے: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ۔ ( فتح الباری جزء ۵۰ صفحه ۱۵۳٬۱۵۲) (عمدۃ القاری، جز ۱۳۶ صفه ۳۳-۳۵) ان روایتوں کا مفہوم ایک ہی ہے کہ جو شخص مظلوم ہو اور ظلم کے دفاع میں مارا جائے تو وہ شہید اور جنت میں داخل ہوگا۔ لیکن امام بخاری نے عنوان باب بجائے قتل کے قائل اختیار کیا ہے اور جملہ شرطیہ کا جواب بھی محذوف کر دیا گیا ہے۔ جس کی جان و مال اور عزت خطرے میں ہو اور اُس پر حملہ کیا گیا ہو اور اس حق میں مشرک ، عیسائی اور مسلم وغیرہ سب برابر ہیں اور بغیر (سنن النسائی، کتاب تحريم الدم، باب من قتل دون ماله (سنن النسائی، کتاب تحريم الدم، باب من قاتل دون مظلمته )