صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 481 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 481

صحيح البخاري - جلدم ۴۸۱ - كتاب المظالم الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّريقَ حَقَّهَا کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا: اگر انہیں بیٹھکیں ہی قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيْقِ قَالَ: غَضُّ بناتا ہے تو پھر راستے کو جو اس کا حق ہے، دو۔الْبَصَرِ وَكَفَّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ انہوں نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نگاہ نیچے رکھنا اور تکلیف دہ شئے دور کرنا اور وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ۔سلام کا جواب دینا، بھلی بات کا حکم دینا اور نا پسندیدہ طرفه: ٦٢٢٩۔بات سے روکنا۔ریح: اَفْنِيَةُ الدُّوْرِ وَالْجُلُوسُ فِيهَا وَالْجُلُوسُ عَلَى الصُّعُدَاتِ : گھروں کے اندر اور باہر حسن جو چھوڑے جاتے ہیں ان میں بھی ایک قسم کا اشتراک ہوتا ہے۔خاندان کے افراد اور دور و نزدیک کے رشتہ دار اور متعلقین کو وہاں اکٹھے مل کر بیٹھنے اور باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے۔بچے کھیل کو دسکتے ہیں۔عربی زبان میں گھر کے اندرونی حصے میں کھلی جگہ کو صحن کہتے ہیں اور گھر کے باہر والے آنگن کو فناء اور صعدة گھر کے دروازے کے سامنے کھلی جگہ یا گذرگاہ ہے۔اس کی جمع معدات اور صَعُدَات ہے۔صَعِید کے معنے کھلا میدان، کھلا راستہ۔عنوان باب میں جو لفظ ہے وہ دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے اور اس سے مراد گھر کے سامنے کا میدان یا گذرگاہ ہے۔ان جگہوں میں بھی بیٹھنا پسندیدہ نہیں کہ اس سے آنے جانے والوں کے لئے روک پیدا ہوتی ہے۔(فتح الباری جزء۵ صفحہ ۱۴۰) (عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحه ۱۲) چنانچہ حدیث زیر باب میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ایسے راستوں سے متعلقہ حقوق یہ ہیں: (غَضُ الْبَصَرِ) نگاہیں نیچی رکھنا تا مستورات آسانی سے گزر سکیں۔(گف الاذی ایذا دہی اور بخش گوئی سے اجتناب ، سلام کا جواب دینا، نیکی کی تلقین کرنا، نا پسندیدہ باتوں سے پر ہیز۔عنوان باب میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا جو حوالہ دیا گیا ہے۔اس کی تفصیل کے لیے کتاب الصلواة تشریح باب ۸۶ روایت نمبر ۴۷۶ دیکھئے۔جہاں عنوان باب میں ان الفاظ میں صراحت ہے: مِنْ غَيْرِ ضَرَرِ بِالنَّاسِ۔ایسی جگہوں میں بیٹھنے کے لئے شرط ہے کہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔اس تعلق میں گذشتہ باب کی تشریح بھی دیکھئے۔باب ۲۳ : الْآبَارُ الَّتِي عَلَى الطَّرِيْقِ إِذَا لَمْ يُتَأَذَ بِهَا راستوں سے پر کنوئیں کھودنا اگر اُن سے تکلیف یا نقصان نہ ہو ٢٤٦٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۴۶۶ عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ مَّالِكِ عَنْ سُمَيّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ نے مالک سے، مالک نے حضرت ابوبکر کے ل عمدۃ القاری میں یہاں "فَإِذَا أَبَيْتُمُ إِلَّا الْمَجَالِسَ“ کے الفاظ ہیں (عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحہ ۱۳) عمدۃ القاری میں یہاں ” الطرق“ کا لفظ ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحه ۱۴)