صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 21
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۱ ۳۴- كتاب البيوع مذکور ہے، اصل مقصود نہیں۔ بلکہ اس کا بیان زیر باب ۸۱،۸۰ میں مفصل آئے گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے چونکہ صرافہ کا تعلق سونے چاندی کے مبادلہ سے ہے اور ظاہر ہے کہ زر مبادلہ اشیائے تجارت کے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہونے کا بڑا ذریعہ رہا ہے۔ اس لئے متعلقہ روایت سے استدلال کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں صرافہ کا کاروبار موجود تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دیا؛ بشرطیکہ مبادلہ نقد بہ نقد ہو اور اس میں سود کا شائبہ نہ پایا جائے ۔ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس قسم کا سود نہ تھا جو آج کل کاروباری دنیا میں اشیاء کی پیداوار میں رائج ہے، ان کا خیال درست نہیں۔ روایت کی سند میں جس ابو منہال راوی کا ذکر ہے یہ وہ نہیں ہیں جو حضرت ابو برزہ اسلمی کے ساتھی تھے۔ اُن کا نام سیار بن سلامہ ہے۔ جبکہ ان کا نام عبدالرحمن بن مطعم ہے۔ (فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۳۷۷) بَاب ۹ : الْخُرُوجُ فِي التِّجَارَةِ تجارت کے لئے باہر جانا وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَانْتَشِرُوا فِي اور الله عز وجل کا یہ فرمانا: زمین میں پھیل جاؤ اور الْأَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی جستجو کرو۔ (الجمعة: ١١) ٢٠٦٢ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ۲۰۶۲ : محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا کہ مخلد بن یزید أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہمیں خبر دی، کہا: عطاء جُرَيْجٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُبَيْدِ ( بن ابی رباح) نے مجھے بتایا۔ عبید بن عمیر سے مروی ابْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ہے کہ حضرت ابوموسیٰ ابو موسیٰ اشعری نے حضرت عمر بن خطاب اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ رت نہ ۔ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ يُؤْذَنَ لَهُ وَكَأَنَّهُ كَان اجازت نہ دی گی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر ) مشغول تھے ۔ حضرت ابو موسیٰ واپس چلے گئے ۔ اتنے رضی عنہ سے ملاقات کے لئے اجازت طلب کی نو تو انہیں مَشْغُوْلًا فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى فَفَرَغَ عُمَرُ میں حضرت عمر فارغ ہوئے اور فرمایا: کیا عبداللہ بن فَقَالَ: أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللهِ بْنِ قیس (ابو موسیٰ) کی آواز میں نے نہ سنی تھی؟ انہیں قَيْسِ ائْذَنُوا لَهُ قِيلَ : قَدْ رَجَعَ فَدَعَاهُ (اندر آنے کی اجازت دو۔ آپ سے کہا گیا کہ وہ تو