صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 19 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 19

صحيح البخاری جلدم 19 بَاب : التِّجَارَةُ فِي الْبَرِّ وَغَيْرِهِ خشکی وغیرہ میں تجارت کرنے کے بارے میں ۳۴- كتاب البيوع وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ اور اللہ عزوجل کا یہ ارشاد: وہ ایسے مرد ہیں نہ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ تجارت انہیں خدا کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ (النور: ۳۸) وَقَالَ قَتَادَةُ : كَانَ الْقَوْمُ خرید و فروخت۔اور قتادہ نے کہا: یہ وہ لوگ تھے جو آپس میں خرید و فروخت اور تجارت کرتے تھے۔مگر جب اللہ کے حقوق میں سے کوئی حق اُن کے سامنے آجاتا تو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تجارت اور خرید و فروخت يَتَبَايَعُوْنَ وَيَتَّجِرُونَ وَلَكِنَّهُمْ إِذَا نَابَهُمْ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِ اللَّهِ لَمْ تُلْهِهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ حَتَّى يُؤَدُّوْهُ إِلَى اللَّهِ۔اُن کو غافل نہ کرتی اور وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتے۔٢٠٦٠ - ٢٠٦١ حَدَّثَنَا أَبُو ۲۰۶۰-۲۰۶۱ : ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابن جریج سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ عمرو عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ : بن دینار نے ابومنہال (عبدالرحمن بن مطعم ) سے كُنتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ فَسَأَلْتُ زَيْدَ روایت کرتے ہوئے مجھے خبر دی۔انہوں نے کہا کہ ابْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِ۔صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا اور فضل بن یعقوب نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ حجاج میں صرافی کا کاروبار کیا کرتا تھا۔میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ ابْنُ جُرَيْج: بن محمد نے ہمیں بتایا۔ابن جریج نے کہا: عمرو بن دینار أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَعَامِرُ بْنُ اور عامربن مصعب نے مجھے خبر دی کہ اُن دونوں نے مُصْعَبٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ابو متهال (عبدالرحمن بن مطعم ) سے سنا۔وہ کہتے تھے : يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ میں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم کرد عمدۃ القاری میں لفظ البز کی بجائے لفظ البر ہے۔ترجمہ اس کے مطابق ہے۔التِّجَارَةُ فِي الْبَرِّ سے مراد کپڑے کا کاروبار کرنا ہے۔(عمدۃ القاری جزءا صفحہ ۱۷۴) ابن عساکر نے بھی البر کو صحیح قرار دیا ہے اور یہ اگلے باب التِّجَارَةُ فِي الْبَحْرِ کے زیادہ قریب ہے۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۳۷۶)