صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 428 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 428

صحيح البخاری جلدم ۴۲۸ ۴۵- كتاب اللقطة کو جو ہدایت دی، وہ یہ تھی کہ اشرفیوں کا تھیلہ اور بندھن محفوظ رکھے جائیں اور وہ گن لی جائیں تا جب بھی مالک ملے تھیلہ اور بندھن شناخت ہونے پر اتنی ہی اشرفیاں اسے دے دی جائیں۔اس اثناء میں ان اشرفیوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔نقطہ کی یہ صورت امانت کی ہے۔آپ نے استعمال کی عارضی اجازت بھی دو سال کے بعد دی۔جبکہ اعلان پر اعلان کروائے گئے اور مالک کا پتہ نہ چلا۔امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہ ہے کہ صرف محتاج ایسی چیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مگر چونکہ حضرت ابی بن کعب امیر تھے اس لئے جمہور کے نزدیک غریب یا محتاج کی کوئی تخصیص نہیں۔امیر وغریب دونوں فائدہ اٹھا سکتے ہیں جبکہ بار بار اعلان کرنے کے باوجود مالک نہ ملے۔(عمدۃ القاری جز ۲ صفحہ ۲۶۷) بَاب ۲ : ضَالَّةُ الْإِبِلِ بھولے بھٹکے اونٹ کے بارے میں حکم ٢٤٢٧ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسِ :۲۴۲۷ عمرو بن عباس نے مجھے بتایا۔عبدالرحمن حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ (بن مهدی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ربیعہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا :) رَبِيْعَةً حَدَّثَنِي يَزِيْدُ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ منبعث کے غلام یزید نے مجھے بتایا کہ حضرت زید بن زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خالد جہنی سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ایک بدوی نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے ان وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَمَّا يَلْتَقِطْهُ فَقَالَ: چیزوں کی نسبت پوچھا جو وہ گری پڑی اٹھا لیتا ہے۔آپ عَرِفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ عِفَاصَهَا نے فرمایا: ایک سال تک اسے شناخت کراؤ اور اس کی تحصیلی اور بندھن محفوظ رکھو۔اگر (مالک) آجائے اور وہ وَوِكَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِهَا تمہیں اس کا صحیح صحیح پتہ بتائے تو اس کے سپر د کر دو، وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْهَا۔قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ورنہ اس کو اپنے کام میں لاؤ۔اس نے کہا: یا رسول اللہ ! فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ بھولی بھٹی بکری ہو ( تو اس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟) لِلذِّنْبِ قَالَ : ضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ آپنے فرمایا: وہ تیری یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیے کی ہے۔اُس نے کہا: بھولا بھٹکا اونٹ ہو؟ اس پر نبی علی النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا کے چہرے کا رنگ بدلا۔آپ نے فرمایا: تجھے اس سے لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا تَرِدُ کیا غرض؟ اس کے پاس پاؤں ہیں اور اس کی مشک الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ۔ہے۔پانی پی لیتا ہے اور درختوں سے کھالیتا ہے۔اطرافه ۹۱ ، ۲۳۷۲، ٢٤۲۸، ٢٤٢٩، ٢٤٣٦ ، ۲٤٣٨، ۵۲۹۲، ۶۱۱۲