صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 427 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 427

صحيح البخاری جلدم ۴۲۷ بَاب ۱ : إِذَا أَخْبَرَهُ رَبُّ اللُّقَطَةِ بِالْعَلَامَةِ دَفَعَ إِلَيْهِ ۴۵ - كتاب اللقطة اور جب گری پڑی چیز کا مالک اُس کو نشانی بتا دے تو وہ اُس کے حوالے کر دے ٢٤٢٦: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۲۴۲۶: آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا بتایا۔( دوسری سند ) اور محمد بن بشار نے بھی مجھے بتایا۔غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ سَمِعْتُ غندر ( محمد بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے سلمہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔(کہتے تھے ) سُوَيْدَ بْنَ غَفْلَةَ قَالَ: لَقِيْتُ أُبَيَّ کہ میں نے سوید بن غفلہ سے سنا۔انہوں نے کہا: میں ابْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: حضرت ابی بن کعب رہ سے ملا تو انہوں نے کہا: أَصَبْتُ صُرَّةً فِيْهَا مِائَةُ دِينَارٍ فَأَتَيْتُ میں نے ایک تھیلی پائی جس میں ایک سو اشرفیاں تھیں۔النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: میں نبی اللہ کے پاس آیا۔آپ نے فرمایا: سال بھر عَرَفْهَا حَوْلًا فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا فَلَمْ أَجِدْ (لوگوں میں ) اس کا اعلان کرتے رہو۔چنانچہ میں مَنْ يَّعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ: عَرَفْهَا سال بھر تک اُس کی شناخت کرا تا رہا۔میں نے کوئی نہ پایا جو ا سے پہچانتا ہو۔پھر میں آپ کے پاس آیا۔آپ حَوْلًا فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ ثُمَّ أَتَيْتُهُ نے فرمایا: ایک سال اور اسے شناخت کراؤ۔چنانچہ میں ثَلَاثًا فَقَالَ: احْفَظْ وِعَاءَهَا وَعَدَدَهَا نے اس کو شناخت کرایا تو بھی نہ پایا۔پھر میں آپ کے وَوِكَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا پاس تیسری بار آیا۔آپ نے فرمایا: اس کی تھیلی اور اس فَاسْتَمْتِعْ بِهَا فَاسْتَمْتَعْتُ فَلَقِيْتُهُ بَعْدُ کا بندھن محفوظ رکھو اور اس کی رقم کی گفتی بھی یاد رکھو۔اگر بِمَكَّةَ فَقَالَ: لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالِ اس کا مالک آجائے تو بہتر ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ۔چنانچہ میں نے (اس سے) فائدہ اٹھایا۔پھر بعد میں مکہ میں اس کا مالک مجھے مل گیا۔کہتے تھے۔مجھے پتہ نہیں کہ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا۔طرفه: ٢٤٣٧۔( حضرت ابی نے ) تین سال بتائے یا ایک سال۔تشریح : إِذَا أَخْبَرَهُ رَبُّ اللَّقَطَةِ بِالْعَلَامَةِ دَفَعَ إِلَيْهِ : حضرت ابی بن کب کی روایت سے ظاہر ہے کہ اگر گری پڑی شئے نقدی کی صورت میں ملے تو وہ چونکہ محفوظ رکھی جاسکتی ہے اس لئے اٹھانے والے کے پاس بطور امانت رہے گی جب تک اس کا مالک نہ مل جائے۔چنانچہ دو سال کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان