صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 426
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۲۶ ۴۵ - كتاب اللقطة دالله الحاليم ٤٥ - كِتَابٌ فِي اللُّقَطَةِ 0000000000 لُقَطَةٌ، لَقَطَ لقط سے اسم ہے۔ ہر وہ شے جو گری پڑی ہو اور جسے اٹھانے کی خواہش پیدا ہوا سے نقطہ کہتے ہیں۔ (عمدة القاری جزء ۲ صفحہ ۲۶۳) قرآن مجید میں بھی یہ لفظ مختلف صیغوں میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ آتا ہے: فَالْتَقَطَهُ ال فِرْعَوْنَ (القصص :(۹) فرعون کے اہل بیت نے موسی کو اٹھا لیا ۔ يَلْتَقِطُهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ۔ (يوسف:11) قافلے کا کوئی شخص یوسف کو لے گا ۔ اِلْتَقَطَ يَلْتَقِطُ ، لَقَطَ سے باب افتعال ہے۔ شرعی اصطلاح میں اصطلاح میں گری پڑی چیز جو ضائع ہونے سے بچا کر مالک کو پہنچائی جائے نقطہ کہلاتی ہے۔ اس کے بارے میں فقہاء نے کئی بحثیں اُٹھائی ہیں۔ گرمی پڑی شے یا بھٹکے ہوئے جانور کالے لینا اور سنبھالنا واجب ہے یا مستحب یا اس کا لینا منع ہے یا جس حالت میں ہو وہ اسی حالت میں رہنے دیا جائے اور اگر کوئی اسے لے لے تو یہ چیز اس کے پاس بطور امانت ہو گی یا بطور کسب ؟ اور آیا امانت کے احکام اس پر عائد ہوں گے یا کسب کے؟ اور اگر وہ چیز نا قابل اعتبار شخص کے پاس پائی جائے تو کیا اس سے جبراً حاصل کرنا ضروری ہوگا، اس خیال سے کہ وہ خُرد برد نہ کر دے؟ اور یہ بھی سوال اُٹھایا گیا ہے کہ ایسی شے کسی جگہ پر گری پڑی ہو تو نقطہ کہلائے گی ؟ مثلا ما لک کے آنگن میں پڑی ہو تو وہ لقطہ نہ ہوگی اور اس کا اٹھانا چوری میں داخل ہوگا۔ غرض اس قسم کے سوال اٹھا کر فقہاء میں سے ایک فریق نے رائے قائم کی ہے کہ چونکہ قرآن مجید نے مومنوں کو ایک دوسرے کا ولی ، مددگار اور دوست قرار دیا ہے، اس لئے اُن پر لازم ہے کہ اگر کسی بھائی کو راستے وغیرہ میں کوئی شئے ایسی حالت میں ملے کہ اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ اسے محفوظ کرلے اور اس کا اعلان کرتا رہے اور شناخت ہو جانے پر وہ شئے مالک کے سپرد کر دے۔ بداية المجتهد، كتاب اللقطة، الجملة الأولى، جزء ۲ صفحه ۲۲۸) قرآن مجید کی جن آیات سے اس فریق نے استدلال کیا ہے ان میں سے ایک آیت یہ ہے: وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الرَّكُوةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (التوبة: اے ) مؤمن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ وہ نیک باتوں کی تلقین کرتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ تعالٰی ضرور ان پر رحم کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔ ذیل کے ابواب میں لقطہ سے متعلق بعض تفصیلی مسائل کا ذکر آئے گا۔