صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 425
صحيح البخاری جلدم ۴۲۵ ۴۴- كتاب الخصومات قَالَ: فَدَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ ثُمَّ أَبْعَثَ اللہ تجھے مار کر پھر اٹھا بھی دے تب بھی محمدصلی اللہ علیہ وسلم فَأَوْتَى مَالًا وَّوَلَدًا ثُمَّ أَقْضِيَكَ۔فَنَزَلَتْ کا انکار نہیں کر سکتا۔اس نے کہا: مجھے پھر مرنے دو۔أَفَرَعَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِايْتِنَا وَقَالَ دوبارہ زندہ ہوکر مال بھی ملے گا اور اولا د بھی۔پھر تمہارا قرض چکاؤں گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی : کیا لَأُوتَيَنَ مَالًا وَوَلَدًا (مريم: ۷۸) الْآيَةَ۔تو نے اُس شخص کو دیکھا جس نے اللہ کے حکموں کا انکار کیا اور اُس نے کہا: مجھے مال اور اولا دضرور دیئے جائیں گے۔اطرافه: ۲۰۹۱ ،۲۲۷۰، ٤۷۳۲ ، ٤٧٣٣، ٤٧٣٤، ٤٧٣٥ تشریح: التَّقَاضِی فریقین میں سے اگر ایک مسلمان ہو اور دوسرا غیر مسلم ہواور با قاعدہ حکومت بھی موجود نہ ہو تو وہاں دادرسی کی کیا صورت ہوگی؟ اس سوال کے جواب میں حضرت خباب کے واقعہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔یعنی سوائے صبر اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے کوئی چارہ نہیں۔غرض تنازعات کے متعلق ان ابواب میں دس اُصولی ہدایات ہیں۔پہلی ہدایت کا تعلق مذہبی اسباب نزاع سے۔دوسری و تیسری ہدایت کا مالی نزاع سے۔چوتھی کا تدارک کرنے میں طریق عمل سے۔پانچویں کا تعزیری کاروائی سے۔چھٹی کا حقوق کی حفاظت بذریعہ مچلکہ وپابندی سے۔ساتویں کا قید و بند سے۔آٹھویں کا لین دین میں ناپسندیدہ طریق نہ اختیار کرنے سے۔نویں کا حکومت کے دخل اور نگرانی سے۔دسویں کا تعلق صبر و تو کل سے۔