صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 424 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 424

صحيح البخاری جلدم وَتَرَكَ نِصْفًا۔۴۴ - كتاب الخصومات دو۔چنانچہ حضرت عبد اللہ کے ذمہ جو قرضہ تھا۔حضرت کعب نے اُن سے آدھا لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔اطرافه ،٤٥٧، ٤٧١ ٢٤١٨، ٢٧٠٦، ٢٧١٠۔تشریح فِي الْمُلَازَمَة : روایت نمبر ۲۴۲۴ اسی کتاب کے باب ۴ روایت نمبر ۲۴۱۸ میں بھی گزر چکی ہے اور كتاب الصلوة باب اے روایت نمبر ۷ ۴۵ و باب ۸۳ روایت نمبر ۴۷۱ میں بھی مذکور ہے۔امام ابو حنیفہ نے قرض کے بارے میں یہ فتویٰ دیا ہے کہ مقروض سے قرضہ کی وصولی کے لئے اس کا پیچھا کرنا جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ اُس کی روزانہ کمائی میں سے کچھ نہ کچھ وصول کیا جائے ، تا وقتیکہ قرضہ ادا ہو جائے۔امامین (امام محمد اور ابو یوسف) کے نزدیک اس اجازت کا تعلق صرف حکومت سے ہے کہ وہ مقروض کی کمائی وغیرہ سے وصول کر کے قرض خواہوں کو بحصہ رسدی تقسیم کرے۔قرض خواہ کا مقروض سے لپٹنا اور دست بہ گریبان ہونا اور جھگڑا کرنا قطعاً جائز نہیں۔(عمدۃ القاری جز ۱۲۶ صفحہ ۲۶۳) روایت نمبر ۲۴۲۴ میں جس جھگڑے کا ذکر ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے ناپسند فرمایا اور اس سے ایسا جواز ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے خلاف ثابت ہوتا ہے۔امام بخاری کی رائے بھی یہی ہے۔چنانچہ باب کا عنوان بغیر جواب ہے اور نامکمل چھوڑا گیا ہے۔حضرت کعب بن مالک کے جھگڑنے پر ان سے نصف قرضہ چھڑا دیا گیا۔بَاب ۱۰ : الْتَقَاضِي قرضہ کا تقاضا کرنا ٢٤٢٥: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا :۲۴۲۵ اسحاق بن راہویہ ) نے ہمیں بتایا کہ وَهْبُ بْنُ جَرِيْرِ بْنِ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وهب بن جریر بن حازم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے مَّسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ : كُنْتُ قَيْنَا فِي ابوٹی سے، انہوں نے مسروق سے، مسروق نے حضرت خباب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلِ دَرَاهِمُ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ: لَا أَقْضِيْكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ۔تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ۔فَقُلْتُ: زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا اور عاص بن وائل کے ذمّے میرے کچھ درہم قرضہ تھے۔میں اس کے پاس آیا اور اس سے تقاضا کرنے لگا۔اُس نے کہا: میں تجھے اُس لَا وَاللَّهِ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وقت تک نہیں دوں گا جب تک کہ تو محمد کا انکار نہ وَسَلَّمَ حَتَّى يُمِيْتَكَ اللهُ ثُمَّ يَبْعَثَكَ کرے۔میں نے کہا: بخدا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔اگر