صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 421
صحيح البخاری جلدم ۴۲۱ ۴۴ - كتاب الخصومات هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ بَعَثَ کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا سنا۔کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف کچھ قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي سوار بھیجے اور وہ قبیلہ بنی حنیفہ کا ایک شخص لے آئے حَنِيْفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أَثَالِ سَيِّدُ أَهْلِ جے ثمامہ بن اثال کہتے تھے۔وہ بیمامہ والوں کا سردار الْيَمَامَةِ فَرَبَطُوْهُ بِسَارَيَةٍ مِّنْ سَوَارِي تھا۔صحابہ نے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی سے اُسے باندھ دیا۔رسول اللہ ﷺ اس کے پاس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا عِنْدَكَ يَا باہر آئے۔آپ نے پوچھا: ثمامہ اتم نے کیا کہنا ہے۔تُمَامَةُ؟ قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ اُس نے کہا: محمد بھلی بات ہی کہنی ہے اور پھر آخر تک فَذَكَرَ الْحَدِيْثَ فَقَالَ : أَطْلِقُوا تُمَامَةَ واقعہ بیان کیا۔آپ نے فرمایا: تمامہ کو چھوڑ دو۔اطرافه: ٤٦٢، ٤٦٩ ، ٢٤٢٣، ٤٣٧٢۔تشريح : اَلتَّوَثُقُ مِمَّنْ تُخْشَى مَعَرَّتُهُ: ملکہ تو ایک ضمانت ہی کی شکل ہے مگر جس واقعہ کا روایت زیر باب میں ذکر کیا گیا ہے اُس کا تعلق دارالحرب کے باشندے سے ہے جو ایک برسر پیکار قبیلے کا سردار تھا۔وہ بطور یر غمال زیر نگرانی رکھا گیا۔(دیکھئے کتاب الصلاۃ باب ۸۲ روایت نمبر ۴۶۹ ) ثمامہ بن اثال کا واقعہ کتاب المغازی باب ۷۰ روایت نمبر ۴۳۷۲ میں بھی مذکور ہے۔عنوانِ باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے جس واقعہ کا حوالہ دیا گیا ہے وہ طبقات ابن سعد اور حلیہ ابونعیم کے میں بروایت زبیر بن خریت عکرمہ سے منقول ہے کہ حضرت ابن عباس تعلیم کی غرض سے اُن کا پاؤں باندھ دیا کرتے تھے کہ کہیں بھاگ نہ جائیں۔(فتح الباری جزء۵ صفی ۹۴) اگلے باب میں پابند کرنے یا زیرحراست رکھنے کا مزید بیان ہے۔یہ ابواب (از ۵ تا۹) تعزیری کاروائی کی ضرورت ہی سے تعلق میں قائم کئے گئے ہیں۔باب ۸: الرَّبْطُ وَالْحَيْسُ فِي الْحَرَمِ حرم میں باندھنا اور قید کرنا وَاشْتَرَى نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ دَارًا اور حضرت نافع بن عبد الحارث نے مکہ میں حضرت لِلسّجن بمَكَّةَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ صفوان بن امیہ سے ایک حویلی قید خانہ بنانے کے الطبقات الكبرى لابن سعد، الطبقة الثانية من أهل المدينة من التابعين من الموالي ، عكرمة مولى عبد الله بن عباس، جزء ۵ صفحه ۱۴۱) (حلية الأولياء، ذكر عكرمة مولى ابن عباس، جزء ۳ صفحه ۳۲۶)