صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 418
صحيح البخاری جلد ۴ فَاقْرَءُوْا مِنْهُ مَا تَيَسَّرَ۔۴۱۸ ۴۴- كتاب الخصومات نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔(پھر فرمایا:) قرآن سات اُسلوب پر نازل ہوا ہے۔تم اُس میں اطرافه: ٤٩٩٢، ٥٠٤١، 1936، ٧٥٥٠۔سے جو بھی آسان ہو پڑھو۔تشریح : كَلَامُ الْخُصُوْمِ بَعْضِهِمْ فِی بَعْض : اس باب کا تعلق بھی اصولی نوعیت کا ہے۔اس کے تحت چار واقعات بیان ہوئے ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کس قسم کی خصومتیں قابل تعزیر اور کس قسم کی قابل نظر اندازی ہیں۔ایک میں بتایا گیا ہے کہ جھگڑے کی ابتداء ایک معمولی سی بات سے ہوئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دخل دے کر جلدی سے ختم کر دی۔یہی صورت تقریبا ہر جھگڑے کی ہے۔دانشمندی اور حکمت عملی سے وہ آسانی سے ختم کیا جاسکتا ہے اور سوئے تصرف سے اسے طول بھی دیا جا سکتا ہے۔جیسا کہ آج کل کی عدالتوں کا حال ہے۔پیشی کی تاریخوں سے اسے اتنا لمبا کیا جاتا ہے کہ اس اثناء میں شیطان کو مخاصمت کے بیسیوں دریچے کھولنے کا موقع مل جاتا ہے۔جھوٹ اور فریب سے مال کھانے والے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ کا ذکر کرنے کے بعد تین واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ان میں آپ نے حکیمانہ دخل دے کر فوری طور پر جھگڑا ختم کر دیا۔روایت نمبر ۲۴۱۷ میں اصولی فیصلہ بیان ہوا ہے کہ تصفیہ تنازعات شہادت پر ہو۔ورنہ مد عاعلیہ سے قسم لی جائے۔بَاب ٥ : إِخْرَاجُ أَهْلِ الْمَعَاصِي وَالْحُصُوْمِ مِنَ الْبَيَوْتِ بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ واقعات صحیحہ کے معلوم ہونے پر حکم الہی کی نافرمانی کرنے والوں اور (اس میں ) جھگڑا کرنے والوں کو گھروں سے نکال دینا وَقَدْ أَخْرَجَ عُمَرُ أُخْتَ أَبِي بَكْرِ حِيْنَ اور حضرت عمر نے بھی حضرت ابو بکر کی بہن کو اُن کے سین کرنے پر نکال دیا تھا۔نَاحَتْ۔٢٤٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۴۲۰: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِةٍ عَنْ شُعْبَةَ الى عدی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ ابی عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے حمید بن عبد الرحمن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَقَدْ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: میں