صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 415 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 415

صحيح البخاری جلد ۴ لدان ۴۴- كتاب الخصومات رَدَّ عَلَى الْمُتَصَّدِقِ قَبْلَ النَّهْي : حضرت جابرؓ کے حوالے کا تعلق بھی اُصولی قسم کا ہے۔ قبیلہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنا غلام اپنی موت کے بعد آزاد قرار دے دیا تھا تو آپ نے دریافت فرمایا: کیا اس کے علاوہ اس کی اور جائیداد بھی ہے؟ نفی میں جواب ملنے پر آپ نے فرمایا کہ یہ جائز نہیں - إِبْدَأُ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقُ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلاَهْلِكَ ۔ یہ الفاظ نسائی کی روایت کے ہیں اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اپنے نفس سے شروع کرو اور اس کے لئے صدقہ خرچ کرو۔ اگر کچھ بچ جائے تو اپنے اہل بیت کو دو۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۹۱ ) كتاب البیوع باب ۵۹ کی روایت نمبر ۲۱۴۱ سے ظاہر ہے کہ غلام کو آزاد کرنے والا مضلم س ہو گیا تھا اور قرض خواہوں ہو گیا تھا اور کے مطالبات واجب الادا تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ نیلام آٹھ سو درہم پر وہ بیچ دیا، تا قرض چکائے جائیں اور اس طرح إِبْدَأُ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقُ عَلَيْهَا کا نمونہ دکھایا گیا کہ آزاد کرنے کی نیکی سے بہتر یہ ہے کہ پہلے اپنے نفس کے حقوق ادا کئے جائیں۔ اس تعلق میں روایت نمبر ۷ ۶۷۱ بھی دیکھئے۔ امام مالک کی روایت کا حوالہ بھی مدبر غلام ہی سے متعلق ہے جو مؤطالے میں منقول ہے۔ چوتھا حوالہ کتاب الاستقراض زیر باب ۱۸ دیکھئے۔ حوالہ جات کی تفصیل کے لیے فتح الباری ( جزء ۵ صفحہ ۹۰، ۹۱ ) نیز عمدۃ القاری ( جز ۱۲۰ صفحه ۲۵۵ ، ۲۵۶) دیکھئے ۔ محولہ روایات اور حدیث مندرجہ زیر باب سے مالی تنازعات کا اصل باعث افلاس بتایا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دراصل اقتصادی بدحالی قوم کے اخلاق کو بگاڑ دیتی ہے جس کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ جو ملک فقر وفاقہ سے دوچار ہیں وہاں کی عدالتیں وکلاء اور مقدمہ بازوں سے معمور ہیں اور جن ملکوں کی اقتصادی حالت اچھی ہے وہاں جھگڑے کم ہیں۔ باب ٤ : كَلَامُ الْخُصُوْمِ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ جھگڑنے والوں کا ایک دوسرے سے باتیں کرنا ٢٤١٦ - ٢٤١٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ۲۴۱۶-۲۴۱۷ محمد محمد بن سلام ) نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ کیا کہ ابو معاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہ (بن قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنٍ وَهُوَ فِيْهَا فَاجِرٌ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوشخص قسم کھائے اور وہ اُس لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُّسْلِمٍ لَقِيَ الله میں جھوٹا ہو اور اس (قسم) کے ذریعے سے کسی مسلم کا وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ۔ قَالَ: فَقَالَ مال مارے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ الْأَشْعَثُ : فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ۔ كَانَ اُس سے ناراض ہوگا۔ کہا کہ حضرت اشعث کہتے تھے : ا (نسائی، کتاب البیوع، باب بيع المدبّر ) (موطا امام مالک، کتاب المدبر، باب بيع المدير)