صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 414 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 414

صحيح البخاری جلد ۴ ۴۱۴ ۴۴ - كتاب الخصومات سے سنا۔ وہ تھے: ٢٤١٤: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۲۴۱۴ موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔ ( انہوں نے کہا:) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ : سَمِعْتُ عبد الله بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تے رَجُلٌ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ایک شخص کو خرید وفروخت میں فریب دیا جاتا تھا۔ تو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَايَعْتَ في صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا: جب تم فَقُلْ: لَّا خِلَابَةَ فَكَانَ يَقُوْلُهُ۔ خرید و فروخت کرو تو یہ کہہ دیا کرو کہ دھوکہ فریب کی بات نہیں ہوگی ۔ چنانچہ وہ یہ کہہ دیا کرتا تھا۔ اطرافه ۲۱۱۷، ٢٤٠٧، ٦٩٦٤۔ ٢٤١٥: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيّ :۲۴۱۵: عاصم بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابن حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِنْبِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّ سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت رَجُلًا أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ کی کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا۔ اس کے فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سوا اُس کی کوئی جائیداد نہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَابْتَاعَهُ مِنْهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَامِ۔ نے اُس کے آزاد کرنے کو روا نہ رکھا اور پھر مقیم بن نحام نے اُس سے وہ (غلام ) خرید لیا۔ اطرافه: ۲١٤١، ۲۲۳۰، ۲۲۳۱، ٢٤٠٣، ٢٥٣٤، ٦٧١٦، ٦٩٤٧، ٧١٨٦۔ ان ابواب میں تنازعات کے مالی وجوہ کا ذکر ہے۔ عناوین ابواب میں چار حوالے ہیں اور باب نمبر ۳ کے تحت دو روایتیں ہیں جن کا خلاصہ ایک اصولی ہدایت پر مبنی ہے جس کی طرف آنحضرت ﷺ نے راہنمائی فرمائی ہے۔ اگر اس ہدایت کی پابندی کی جائے تو بہت سے مالی جھگڑوں کا سد باب ہو جاتا ہے۔ عنوان باب کے الفاظ كتاب الاستقراض والتفليس باب ۱۹ روایت نمبر ۲۴۰۷ سے لئے گئے ہیں۔ اس روایت میں جو واقعہ درج ہے، اُس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھائے گا تو و اُس اس کا کا لین دین باطل اور قابل رد ہو گا ، خواہ دار القضاء القضاء کی کی طرف طرف سے سے پابندی ۔ عائد ہو یا نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ کی اس ہدایت کے پیش نظر جو آپ نے حضرت حبان بن منقد کو دی ، ہر ایسا معاملہ جس میں دھوکہ اور فریب ہو، قابل رڈ ہو گا ۔ اس تعلق میں کتاب البیوع باب ۴۸ بھی دیکھئے ۔ آپ کی یہ زریں ہدایت معاملات میں جھا عاملات میں جھگڑے کی جڑ کاٹنے والی ہے۔ تشريح : مَنْ رَدَّ أَمْرَ السَّفِيهِ وَضَعِيْفِ الْعَقْلِ: صلى الله