صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 414
صحيح البخاری جلدم ۴۴- كتاب الخصومات ٢٤١٤: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ :۲۴۱۴ موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔عبد العزیز إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔( انہوں نے کہا : ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ : سَمِعْتُ عبد اللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے: رَجُلٌ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ایک شخص کو خرید وفروخت میں فریب دیا جاتا تھا۔تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَايَعْتَ في صلى اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا: جب تم خرید و فروخت کرو تو یہ کہہ دیا کرو کہ دھوکہ فریب کی بات نہیں ہوگی۔چنانچہ وہ یہ کہ دیا کرتا تھا۔w فَقُلْ لَّا خِلَابَةَ فَكَانَ يَقُولُهُ۔اطرافه ۲۱۱۷، ٢٤۰۷، ٦٩٦٤ ٢٤١٥: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيّ :۲۴۱۵ عاصم بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابن حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِلْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الي ذب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن منکدر الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت رَجُلًا أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ کی کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا۔اس کے فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سوا اُس کی کوئی جائیداد نہ تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَابْتَاعَهُ مِنْهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّجَّامِ۔نے اُس کے آزاد کرنے کو روا نہ رکھا اور پھر نعیم بن نحام نے اُس سے وہ (غلام ) خرید لیا۔اطرافه: ۲۱٤١، ۲۲۳۰، ۲۲۳۱، ٢٤۰۳، ٢٥٣٤، ٦٧١٦، ٦٩٤٧، ٧١٨٦۔مَنْ رَدَّ أَمْرَ السَّفِيهِ وَضَعِيْفِ الْعَقْلِ : ان ابواب میں تنازعات کے مالی وجوہ کا ذکر ہے۔تشریح عناوین ابواب میں چار حوالے ہیں اور باب نمبر ۳ کے تحت دو روایتیں ہیں جن کا خلاصہ ایک اصولی ہدایت پر مبنی ہے جس کی طرف آنحضرت ﷺ نے راہنمائی فرمائی ہے۔اگر اس ہدایت کی پابندی کی جائے تو بہت سے مالی جھگڑوں کا سد باب ہو جاتا ہے۔عنوان باب کے الفاظ كتاب الاستقراض والتفليس باب ۹ روایت نمبر ۲۴۰۷ سے لئے گئے ہیں۔اس روایت میں جو واقعہ درج ہے، اُس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھائے گا تو اُس کا لین دین باطل اور قابل رڈ ہوگا، خواہ دارالقضاء کی طرف سے پابندی عائد ہو یا نہ ہو۔آنحضرت ﷺ کی اس ہدایت کے پیش نظر جو آپ نے حضرت حسان بن منقد کو دی ، ہر ایسا معاملہ جس میں دھوکہ اور فریب ہو، قابل رڈ ہوگا۔اس تعلق میں کتاب البیوع باب ۴۸ بھی دیکھئے۔آپ کی یہ زریں ہدایت معاملات میں جھگڑے کی جڑ کاٹنے والی ہے۔