صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 411
صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۱۱ ۴۴- كتاب الخصومات ضَرَبْتُ وَجْهَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ غصہ آیا اور میں نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ نے فرمایا: انبیاء کو ایک دوسرے پر (اس طرح) فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فضیلت نہ دیا کرو کیونکہ لوگ قیامت کے دن بے ہوش فَأَكُوْنُ أَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُ عَنْهُ الْأَرْضُ ہو جائیں گے اور میں پہلا ہوں گا جو زمین پھٹنے پر باہر نکلوں گا اور میں کیا دیکھتا ہوں کہ موسی عرش کے پایوں فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذْ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ میں سے ایک پایہ پڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا، الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ أَمْ آیا وہ اُن میں سے تھے جو بے ہوش ہوئے یا پہلے کی حُوْسِبَ بِصَعْقَةِ الْأُولَى۔ بے ہوشی ہی اُن کے لئے کافی سمجھی گئی۔ اطرافه ٣٣۹۸، ٤٦٣٨، 6916، 6917، ٧٤٢7۔ ٢٤١٣: حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ۲۴۱۳: موسیٰ ( بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک حَجَرَيْنِ قِيلَ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ أَفُلَانٌ یہودی نے کسی لڑکی کا سر دو پتھروں سے کچلا ۔ اُس أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَاتْ (لڑکی) سے پوچھا گیا کہ تیرا سرکس نے گچلا ہے؟ کیا بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ فلاں نے یا فلاں نے؟ جب اُس یہودی کا نام لیا گیا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضٌ تو اُس نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ وہ یہودی پکڑا گیا رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ۔ اور اُس نے اقرار کیا تو نبی ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا۔ تب اُس کا سر بھی دو پتھروں سے گچلا گیا۔ اطرافه: ٢٧٤٦ ، ٥٢٩٥، ٦٨٧٦، ٦٨٧٧، ٦٨٧٩، ٦٨٨٤، ٦٨٨٥۔ تشريح : مَا يُذْكَرُ فِي الْإِشْخَاصِ وَالْخُصُومَةِ : پہلا باب مذہی قسم کے اختلافات سے متعلق ہے۔ ایک صحابی کے نزدیک دوسرے صحابی نے کسی آیت کی تلاوت درست نہیں کی اور وہ اسے پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ۔ آپ کے نزدیک خصومت کی نوعیت ایسی نہ تھی کہ اس پر ایک دوسرے سے اختلاف کیا جاتا۔ اس لئے آپ نے ان الفاظ میں نہایت ہی قیمتی نصیحت فرمائی: لَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَهَلَكُوا ۔ ( روایت نمبر ۲۴۱۰) آپس میں اختلاف نہ کرو کیونکہ تم سے پہلوں نے اختلاف کیا اور وہ برباد ہو گئے۔