صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 402
صحيح البخاری جلدم تشریح ۴۳ - كتاب الاستقراض الشَّفَاعَةُ فِي وَضْعِ الدَّيْنِ : اس باب کا مقصد ظاہر ہے اور مسئلہ بھی واضح ہے جس میں کسی کو اختلاف نہیں۔مگر یہاں جس تعلق میں حضرت جابر کی دوسری روایت ( نمبر ۲۴۰۶) نقل کی گئی ہے وہ واضح نہیں اور نہ شارحین نے اس بارہ میں روشنی ڈالی ہے۔اس سے ماقبل باب میں زیادہ دینے اور قبول کرنے کے جواز کا ذکر ضمنا آیا ہے اور یہاں قابل وصول واجبی قرضہ میں تخفیف سے متعلق سفارش ہے۔خواہ قرض کی صورت ہو یا دین کی۔اسی لئے روایت نمبر ۲۴۰۶ میں حضرت جابر کی دوسری روایت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔جس میں نہ صرف قیمت ادا کی گئی ہے بلکہ اُونٹ خرید کر وہ بھی واپس دیا گیا۔غالباً معلوم ہوتا ہے کہ امام موصوف نے سابقہ باب کے اختلافی مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔باب ۱۹ : مَا يُنْهَى عَنْ إِضَاعَةِ الْمَالِ مال ضائع کرنے سے جو ممانعت ہے اُس کا بیان وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَاللهُ لَا يُحِبُّ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ فساد کو الْفَسَادَ (البقرة : ٢٠٦) وَلَا يُصْلِحُ پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ بگاڑنے والوں کے کام کو عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ (يونس: (۸۲) وَقَالَ کارآمد نہیں بناتا اور اللہ تعالیٰ کا قول: کیا تمہاری نماز فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: اَصَلوتُكَ تَأْمُرُكَ اَنْ تمہیں کہتی ہے کہ ہم، جسے ہمارے باپ دادے تتركَ مَا يَعْبُدُ أَبَا وَنَا اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِی پوجتے تھے؛ چھوڑ دیں۔یا یہ کہ اپنے مالوں میں جیسا نَّتْرُكَ اَمْوَالِنَا مَا نَشُوا (هود: (۸۸) وَقَالَ ہم چاہیں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اپنے تَعَالَى: وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ مال نا سمجھوں کو نہ دو۔اور (مالوں میں تصرف کرنے (النساء : ٦) {وَالْحَجْرُ فِي ذَلِكَ} کے متعلق ) حکما پابندی عائد کرنا * اور دھوکہ دینے کی وَمَا يُنْهَى عَنِ الْخِدَاع جو ممانعت کی گئی ہے اُس کا بیان۔:٢٤٠٧: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا : ۲۴۰: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبداللہ بن دینار ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے الفاظ وَالْحَجْرُ فِي ذَلِكَ» فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۸۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔