صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 395
صحيح البخاري - جلدم ۳۹۵ ۴۳ - كتاب الاستقراض ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ ۖ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ه (البقرة : (۲۸) یعنی اگر مقروض تنگدست ہو تو اُسے آسودگی تک مہلت دی جائے اور تمہارا تنگ دست شخص کے لئے قرضہ بطور صدقہ چھوڑ دینا سب سے اچھا عمل ہے اگر تمہیں علم ہو۔بَاب ١٤ : إِذَا وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ فِي الْبَيْعِ وَالْقَرْضِ وَالْوَدِيْعَةِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ( یہ باب اس بارے میں ہے کہ ) اگر کوئی شخص بیچ یا قرض یا امانت کا مال بجنسم دیوالیہ ہو جانے والے کے پاس پائے تو (جس کا وہ مال ہو ) وہی اُس کا زیادہ حق دار ہے وَقَالَ الْحَسَنُ : إِذَا أَفَلَسَ وَتَبَيَّنَ لَمْ اور حسن بصری) نے کہا: جب کوئی دیوالیہ ہو جائے يَجُزْ عِتْقُهُ وَلَا بَيْعُهُ وَلَا شِرَاؤُهُ۔وَقَالَ اور (اُس کا دیوالیہ پن ) واضح ہو جائے تو نہ اس کا کسی سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ : قَضَى عُثْمَانُ مَن غلام کو آزاد کرنا جائز ہوگا، نہ بیچنا، نہ خریدنا۔اور سعید اقْتَضَى مِنْ حَقِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْلِسَ فَهُوَ لَهُ بن مسیب نے کہا: حضرت عثمان نے فیصلہ کیا کہ جس وَمَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ۔ا نے کسی کے دیوالیہ ہو جانے سے پہلے اپنا حق لے لیا تو وہ اُس کا ہو گیا اور جس نے اپنے مال کو بخنسہ پہچان لیا تو وہ اُس کا زیادہ حق دار ہے۔٢٤٠٢: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :۲۴۰۲ احمد بن یونس نے ہمیں بتایا۔زہیر نے ہم حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سے بیان کیا کہ یحیی بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ انہوں نے کہا: ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے مجھے عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ خبر دی که عمر بن عبدالعزیز نے انہیں بتایا۔ابوبکر بن أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عبد الرحمن بن حارث بن ہشام نے ان سے بیان کیا الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ يَقُولُ: قَالَ وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔یا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔آپ