صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 393
صحيح البخاری جلدم ۳۹۳ بَاب ۱۲ : مَطْلُ الْغَنِي ظُلْمٌ دولت مند کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۴۳ - كتاب الاستقراض ٢٤٠٠: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۲۴۰۰ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے معمر نے ہمام بن منبہ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ سے جو کہ وہب بن منبہ کے بھائی تھے۔انہوں نے اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے : رَضِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَطْلُ الْغَنِي ظُلْم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دولت مند کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔اطرافه: ۲۲۸۷، ۲۲۸۸ تشریح : مَطلُ الْغَنِي ظُلم: سابقہ باب ہ کے تعلق میں یہ باب بھی ہے۔اس میں نماز جنازہ نہ پڑھنے کی وجہ بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ دولت مند بغیر ادا ئیگی قرض فوت ہو جائے تو اُس کی جائیداد اس کے قرضے کی ذنے وار ہوگی اور مفلوک الحال کے لئے بیت المال ذمہ وار ہوگا۔بَابِ ۱۳ : لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالَ حق دار کا حق ہے کہ وہ تقاضا کرے وَيُذْكَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قول مروی ہے (کہ وَسَلَّمَ: لَى الْوَاجِدِ يُحِلُّ عُقُوبَتَهُ آپ نے فرمایا : ) جو آسودہ حال ہو اُس کا (ادائیگی قرضہ میں ) ٹال مٹول کرنا جائز قرار دیتا ہے کہ اس کی وَعِرْضَهُ۔بے آبروئی کی جائے اور اُس کو سزادی جائے۔قَالَ سُفْيَانُ عِرْضُهُ: يَقُولُ مَطَلْتَنِي۔سفیان نے کہا: بے آبرو کرنے سے مراد یہ ہے کہ ( قرض خواہ) کہے کہ تو نے مجھ سے نادہندگی کی ہے وَعُقُوبَتْهُ : الْحَبْسُ اور اُس کی سزا یہ ہے کہ قید کیا جائے۔٢٤٠١ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۲۴۰۱: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی ( بن سعید عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ قطان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ