صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 392 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 392

صحيح البخاری جلدم ۳۹۲ ۴۳- كتاب الاستقراض عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال ابْن أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله نے عبد الرحمن بن ابی عمرہ سے، عبدالرحمن نے حضرت عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ قَالَ: مَا مِنْ مُّؤْمِنِ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي عليه وسلم نے فرمایا: کوئی مومن ایسا نہیں جس سے میرا الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ نزد یکی رشتہ نہ ہو۔النَّبِيُّ أولى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ اَنْفُسِهِمُ اگر چاہو تو تم یہ آیت پڑھ لو : نبی مومنوں پر خود اُن کے (الاحزاب : ٧) فَأَيُّمَا مُؤْمِن مَّاتَ وَتَرَكَ اپنے نفسوں سے بھی زیادہ شفقت کرنے والا ہے۔جو مَالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتْهُ مَنْ كَانُوا وَمَنْ مُون فوت ہو اور مال چھوڑ جائے تو اُس کی برادری اُس کی وارث ہوگی، جو بھی وہ ہوں۔اور جو کوئی تَرَكَ دَيْنَا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ۔قرضہ یا بال بچہ چھوڑ جائے تو میرے پاس آئے۔میں اُس کا ولی ہوں۔اطرافه ،۲۲۹۸، ۲۳۹۸، ۷۸۱، ۱۳۷۱، ٦٧۳۱، ٦٧٤٥، ٦٧٦٣۔تشریح: الصَّلَاةُ عَلَى مَنْ تَرَكَ دَيْنًا روایات مندرجہ زیر باب سے ضمنا پایا جاتا ہے کہ نماز جنازو پڑھنے کا حق اُس وقت تک ہوتا ہے جب مسلمان ایک دوسرے کے حقوق سے سبکدوش ہوں۔اگر اُن میں سے کوئی مقروض ہونے کی حالت میں فوت ہوا ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کی نماز جنازہ نہ پڑھتے تا وقتیکہ اُس کا قرض ادا نہ ہو جائے یا کوئی اور شخص اُس کی ادائیگی کی ذمہ داری نہ لے لے۔اس امر سے قرض ادا کرنے کی اہمیت واضح ہے اور اسی اہمیت کی نسبت سے عدم ادائیگی کے گناہ کی عظمت بھی۔غرض اس باب میں قرض ادا نہ کرنے کے گناہ کی نوعیت بتائی گئی ہے۔اس تعلق میں کتاب الكفالة باب ۳ روایت نمبر ۲۲۹۵ دیکھئے۔اور محولہ بالا آیت پوری یہ ہے: النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَتُهُمْ وَأُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهجرينَ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَى اَوْلِيَاءِ كُمُ مَّعْرُوفًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا (الاحزاب: ( {نبی مومنوں پر اُن کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہے اور اُس کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔اور جہاں تک رحیمی رشتے والوں کا تعلق ہے تو ان میں سے بعض اللہ کی کتاب میں (مندرج احکام کے مطابق ) بعض پر اولیت رکھتے ہیں یہ نسبت دوسرے مومنین اور مہاجرین کے۔سوائے اس کے کہ تم اپنے دوستوں سے (بطور احسان ) کوئی نیک سلوک کرو۔یہ سب باتیں کتاب میں لکھی ہوئی موجود ہیں۔} ર