صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 356
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۵۶ ۴۲ - كتاب المساقاة باب ۸ : شُرْبُ الْأَعْلَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ بلند کھیت کو ٹخنوں تک پانی دینا ٢٣٦٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۲۳۶۲: محمد بن سلام ) نے ہم سے بیان کیا کہ مخلد مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ قَالَ بن یزید حرانی نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: ابن جریج أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي نے مجھے بتایا، کہا: ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے ان سے ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ بیان کیا۔ ایک انصاری شخص نے حضرت زبیر سے حرہ سے وہ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ کی اس ندی کے بارے میں جھگڑا کیا جس خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجٍ مِّنَ الْحَرَّةِ کھجوروں کو پانی دیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے لِيَسْقِيَ بِهِ النَّخْلَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ فرمایا: زیرا اپنے درختوں کو پانی دو اور آپ نے انصاری صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا مشورہ دیا اور (فرمایا : ) فَأَمَرَهُ بِالْمَعْرُوْفِ ثُمَّ أَرْسِلْهُ إِلَى اپنے ہمسایہ کے لئے بھی پانی چھوڑ دو۔ انصاری نے کہا: آپ نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ وہ آپ کی جَارِكَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ كَانَ پھو پھی کا بیٹا جو ہوا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُوْلِ اللَّهِ چہرہ متغیر ہو گیا اور آپ نے (حضرت زبیر سے ) فرمایا: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اسْقِ اپنے درختوں کو ) پانی دو؛ یہاں تک کہ وہ (کھیت کی ) ثُمَّ احْبِسْ حَتَّى يَرْجِعَ الْمَاءُ إِلَى الْجَدْرِ منڈیروں تک پہنچ جائے اور آپ نے (حضرت زبیر کا ) وَاسْتَوْعَى لَهُ حَقَّهُ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللهِ جو حق تھا، وہ ان کو دے دیا۔ حضرت زبیر نے کہا: بخدا! إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ فِي ذَلِكَ فَلَا یہ آیت تو اسی واقعہ سے متعلق ہی نازل ہوئی تھی۔ یعنی تیرے رب کی قسم ہے، وہ ہرگز مومن نہیں ہوں گے وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ جب تک وہ تجھے ان امور میں حکم نہ بنا ان امور میں حکم نہ بنائیں جو اُن کے فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ (النساء : (٦٦) در میان اختلافی صورت اختیار کرتے ہیں۔ فَقَالَ لِي ابْنُ شِهَابٍ فَقَدَّرَتِ الْأَنْصَارُ ابن شہاب نے مجھ سے کہا: انصار اور دوسرے لوگوں عمدة القاری میں اس جگہ يَسْقِی بھا کے الفاظ ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحہ ۲۰۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔