صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 355
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۵۵ ۴۲- كتاب المساقاة قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ محمد بن عباس نے کہا کہ ابو عبد اللہ (امام بخاری ) نے لَيْسَ أَحَدٌ يَذْكُرُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ کہا: صرف لیٹ ہی نے عروہ کو عبد اللہ سے روایت إِلَّا اللَّيْثُ فَقَطْ ۔ اطرافه: ٢٣٦١ ، ٢٣٦٢ ، ٢٧٠٨، ٤٥٨٥۔ کرتے ہوئے ذکر کیا ہے۔ تشريح : سَكُرُ الْأَنْهَارِ : شِرَاج من شرج ہے بھی مَسيلُ الْمَاءِ بینی ندی نالہ نھر کے معنے ہیں دریا۔ ندی نالے پر قیاس کر کے عنوانِ باب قائم کرنے میں وسعت سے کام لیا گیا ہے۔ ندی نالے اور دریاؤں کا پانی ملحقہ کھیتوں میں پہنچانے کی غرض سے روکنا جائز ہے۔ یہی روایت باب ۸،۷ میں بھی علیحدہ سندوں سے دُہرائی گئی ہے۔ باب ۷ : شُرْبُ الْأَعْلَى قَبْلَ الْأَسْفَلِ بلندی کے کھیت کو نچلے کھیت سے پہلے پانی پلانا ٢٣٦١: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ ۲۳۶۱: عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مبارک) أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ نے ہمیں خبر دی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، قَالَ خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ زہری نے عروہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت زبیر مرد نے جھگڑا کیا تو نبی ﷺ نے فر رحم فرمایا: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا سے ایک انصاری مرد ز میرا تم (اپنے درختوں کو سیراب کر لو اور پھر پانی کو چھوڑ زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ أَرْسِلْ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ دور انصاری نے کہا: آپ نے یہ فیصلہ محض اس لئے کیا إِنَّهُ ابْنُ عَمَّتِكَ فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ہے کہ وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا جو ہوا تو آنحضرت سے صلى الله عليه اسْقِ يَا زُبَيْرُ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَاءُ الْجَدْرَ نے پھر فرمایا: زبیر! اپنے درخ ، درختوں کو پانی پلاؤ۔ پھر ثُمَّ أَمْسِكْ فَقَالَ الزُّبَيْرُ فَأَحْسِبُ هَذِهِ جب پانی منڈیروں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد پانی دینا بند کر دو ( اور آگے جانے دو ) حضرت زبیر نے کہا: الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ، فَلَا وَرَبِّكَ میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی واقعہ کے متعلق اُتری تھی۔ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا یعنی تیرے رب کی قسم ہے، وہ ہرگز مومن نہیں ہوں شَجَرَ بَيْنَهُمْ ۔ (النساء : (٦٦) گے جب تک وہ تجھے ان امور میں حکم نہ بنائیں جو اُن کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتے ہیں۔ اطرافه ٢٣٥٩-٢٣٦٠، ٢٣٦٢، 708، 4585۔ عمدة القاری میں "رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ “ کے الفاظ ہیں (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۲۰۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔