صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 354
صحيح البخاری جلدم ۳۵۱۴ ۴۲ - كتاب المساقاة بَاب ٦ : سَكْرُ الْأَنْهَارِ شہروں کا پانی روکنا ٢٣٥٩ - ٢٣٦٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ۲۳۵۹ - ۲۳۶۰: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے ابْنُ يُوْسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي بیان کیا کہ لیث بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ کہا: ابن شہاب نے مجھے بتایا۔انہوں نے عروہ سے، ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ عروہ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے أَنَّ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس ایک انصاری شخص نے حضرت زبیر سے حرہ کی اس ندی کے بارے میں جھگڑا کیا؟ جس سے لوگ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا کھجوروں کو پانی دیا کرتے تھے۔انصاری نے النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ سَرِحِ الْمَاءَ ( حضرت زبیر سے) کہا: پانی بہنے دو اور حضرت زبیر يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِيِّ نے نہ مانا تو وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ لائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ اسْقِ فرمایا: زبیر ا تم (اپنے درختوں کو ) سیراب کرلو۔پھر يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ اپنے ہمسایہ کے لئے پانی چھوڑ دو۔انصاری کو غصہ آگیا فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ أَنْ كَانَ اور اس نے کہا: آپ نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ یہ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُوْلِ اللَّهِ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔اس پر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا: زبیر اپنے درختوں کو پانی دو۔پھر پانی کو روکے رکھو۔یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک بھر آئے۔حضرت زبیر کہتے تھے اللہ کی قسم ! میں إِلَى الْجَدْرِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی واقعہ سے متعلق نازل ہوئی لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلَا تھی۔یعنی تیرے رب کی قسم ! وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ ہوں گے جب تک کہ وہ تجھے ان باتوں میں حکم نہ مانیں فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ۔(النساء : ٦٦ ) جو اُن کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتی ہیں۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ