صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 353 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 353

صحيح البخاری جلدم ۳۵ ۴۲ - كتاب المساقاة وَلَا يُزَكّيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ رَجُلٌ کرے گا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا۔ایک وہ شخص كَانَ لَهُ فَضْلُ مَاءٍ بِالطَّرِيْقِ فَمَنَعَهُ جس کے پاس سفر میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور مِنِ ابْنِ السَّبِيْلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامَهُ اس نے مسافر کو نہیں دیا اور ایک وہ شخص جس نے کسی امام کی بیعت کی اور یہ بیعت محض دنیا کی خاطر کی۔اگر نہ لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا اس نے اسے دنیاوی مال دیا تو وہ راضی ہوگیا اور اگر نہ رَضِيَ وَإِنْ لَّمْ يُعْطِهِ مِنْهَا سَخِطَ دیا تو خفا ہوگیا اور ایک وہ شخص جس نے عصر کے بعد اپنا وَرَجُلٌ أَقَامَ سِلْعَتَهُ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ سامانِ تجارت بازار میں رکھا اور کہا: اس ذات کی قسم وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَقَدْ أَعْطَيْتُ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں مجھے تو اس کی یہ یہ قیمت ماتی تھی اور پھر کوئی شخص اس کو سچا سمجھے اور (خرید لے) بِهَا كَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ رَجُلٌ ثُمَّ قَرَأَ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی (یعنی) جو لوگ هَذِهِ الْآيَةَ : إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللہ کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے اللهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا (آل عمران: ۷۸ تھوڑی قیمت لیتے ہیں۔اطرافه: ٢٣٦٩، ٢٦٧٢، ٧٢١٢، ٧٤٤٦۔تشریح: إِثْمُ مَنْ مَّنَعَ ابْنَ السَّبِيْلِ مِنَ الْمَاءِ: چونکہ ثواب و عقاب کا دارو مدار قدرت ، تصرف، ملکیت اور استطاعت پر ہے۔اس لئے ملکیت کے بارے میں ابواب بطور تمہید قائم کر کے ان احکام کا ذکر شروع کیا گیا ہے؛ جن کا تعلق پانی پینے پلانے وغیرہ مسائل سے ہے اور سب سے پہلے مسافر کو پانی نہ پینے دینے کے گناہ کا ذکر کیا گیا ہے، جو بہت سنگین ہے کہ ایسا سنگدل شخص قیامت کے روز غضب الہی کا مورد اور الہی رحمت سے محروم ہوگا۔رَجُلٌ كَانَ لَهُ فَضْلُ مَاءٍ۔سنگدلی کی مذکورہ بالا مثال انتہائی صورت رکھتی ہے کہ پانی ایک شخص کی ضرورت سے زائد ہو اور وہ مسافر کو پینے کے لئے نہیں دیتا۔عنوان باب میں لفظ ”فضل“ نظر انداز کیا گیا ہے۔حالانکہ روایت نمبر ۲۳۵۳ اور روایت نمبر ۲۳۵۴ میں بھی فَضْلُ الْمَاءِ (یعنی بچے ہوئے پانی ) کا ذکر ہے۔ان الفاظ کے پیش نظر ہی باب کا عنوان ان الفاظ سے قائم کیا گیا ہے : مَنْ قَالَ إِنَّ صَاحِبَ الْمَاءِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ حَتَّى يَرْوِيَ اور انہی الفاظ کے پیش نظر جمہور کا یہ مذہب ہے کہ اگر کسی کے پاس بقدر ضرورت پانی ہو تو وہ مسافر کی نسبت اس کا زیادہ حق دار ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۳) جہاں تک فقہی مسئلے کا تعلق ہے، یہ درست ہے۔مگر ہر حالت میں ان کا فتویٰ درست نہیں۔بلکہ اعلیٰ اخلاق کا تقاضا ہے کہ پیاسے کو پلایا جائے اور اپنی ضرورت پر وہ مقدم رکھا جائے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر :١٠) کہ وہ اپنی ضرورت پر لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں۔