صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 351
صحيح البخاری جلدم - ۳۵۱ ۴۲ - كتاب المساقاة کیا ہے۔جمہور کے نزدیک بھی کوئی ویت نہیں ، خواہ کنواں کسی کی ملکیت میں ہو یا نہ ہو۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۲) جُبَارٌ : جُبَارٌ کے معنے ہیں هَدَرٌ۔یعنی خون بہا کی ذمہ داری سے بری۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۱۹۵) مزید تشریح کے لیے دیکھئے کتاب الديات، باب ۲۸۔مَنْ بَاب ٤ : الْحُصُوْمَةُ فِي الْبِتْرِ وَالْقَضَاءُ فِيْهَا کنوئیں کے بارے میں جھگڑا اور اس کا فیصلہ کرنے کے بارے میں (حدیث) ٢٣٥٦ - ٢٣٥٧: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ۲۳۵۶ - ۲۳۵۷: عبدان نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ نے ابوحمزہ سے، ابو حمزہ نے اعمش سے ، اعمش نے شقیق شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ الله عَنْهُ سے شقیق نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے حضرت عبد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ کی۔آپ نے فرمایا: جو شخص کسی کا مال مارنے کے لئے امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ عَلَيْهَا فَاجِرٌ لَقِيَ قسم کھائے اور وہ قسم میں جھوٹا ہو، وہ اللہ تعالیٰ۔اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ الله ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔پھر تَعَالَى : اِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی کہ جو لوگ اللہ کے وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا۔الآيَةَ عہد اور اپنی قسموں کے وسیلے سے تھوڑا مول لیتے ہیں (آل عمران: ۷۸) (آخر آیت تک۔) فَجَاءَ الْأَشْعَثُ فَقَالَ مَا حَدَّثَكُمْ پھر حضرت اشعث آئے اور انہوں نے کہا: ابو عبد الرحمن أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي أُنْزِلَتْ هَذِهِ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ) نے تم سے کیا بیان کیا۔یہ الْآيَةُ كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ آيت تو میرے متعلق اتری تھی۔میرا ایک کنواں میرے ابْنِ عَمَ لِي فَقَالَ لِي شُهُودَكَ ایک چا کے بیٹے کی زمین میں تھا۔(اس کا جھگڑا تھا) آپ نے مجھ سے فرمایا: اپنے گواہ لاؤ۔میں نے کہا: قُلْتُ مَا لِي شُهُودٌ قَالَ فَيَمِيْنَهُ (یارسول اللہ !) میرے پاس تو کوئی گواہ نہیں۔آپ نے قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِذًا يَحْلِفُ فَذَكَرَ فرمایا: پھر دوسرے فریق سے قسم لے لے۔میں نے اید لفظ "مسلم" عمدۃ القاری کے مطابق متن میں نہیں ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۱۹۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔