صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 332 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 332

صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۳۲ ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة مُعَرَّس بمعنی منزل ہے۔ تعریس سے صیغہ ظرف مکان ہے۔ عَرَّسَ کے معنے اثنائے سفر میں آرام کرنے کی غرض سے رات کے آخری حصہ میں اُترنا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحه ۱۷۸) ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۷) وادی عقیق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا اور ایک خواب کی بناء پر یہ وادی مبارک قرار دی گئی ۔ وادی عقیق مقام ذوالحلیفہ میں ہے۔ شاملات دیہہ سے متعلق بعض فقہاء نے کئی ایک سوال اُٹھائے ہیں جو نظر انداز کئے جانے کے قابل ہیں۔ صرف عمارت اور کاشت وغیرہ ہی کسی ویرانہ کی آبادی کا سبب نہیں ہیں بلکہ مذہبی اغراض بھی اس کا سبب ہو سکتے ہیں۔ باب ۱۷ إِذَا قَالَ رَبُّ الْأَرْضِ أُقِرُّكَ مَا أَقَرَّكَ اللَّهُ وَلَمْ يَذْكُرْ أَجَلًا مَّعْلُوْمًا فَهُمَا عَلَى تَرَاضِيْهِمَا ( یہ باب اس بارے میں ہے کہ ) اگر زمین کا مالک ( کاشتکار سے ) کہے: میں تجھ کو اس وقت تک رکھوں گا جب تک کہ اللہ تجھے رکھے اور کوئی میعاد بیان نہ کرے تو وہ دونوں باہمی رضا مندی کے ہی پابند رہیں گے۔ ۲۳۳۸ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ۲۳۳۸ : احمد بن مقدام نے ہمیں بتایا کہ فضیل حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ ( بن عقبہ ) مُوسَى أَخْبَرَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نے ہمیں بتایا کہ نافع نے ہمیں خبر دی کہ حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا۔ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ دوسری سند ) اور عبدالرزاق نے بھی کہا: قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہا: موسیٰ بن عقبہ نے مجھے عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ نے یہود و نصاری کو حجاز سے جلا وطن کر دیا تھا اور جب