صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 330
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۳۰ ا - كتاب الحرث والمزارعة بات کی نگرانی ہو سکے کہ آبادی والوں کے کام آ سکنے والی زمین پر قبضہ کر کے اُن کے لئے دقت پیدا نہ کرے۔امام ابوحنیفہ افتادہ زمین کی آبادی کے لئے بہر حال اجازت حاصل کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور اس رائے میں ان کا استدلال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہے جو بخاری میں مروی ہے : لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ لا یعنی محفوظ جگہیں اللہ اور رسول کی ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۱۷۶) حق تملیک اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب اولوالامر کی اجازت ہو۔اگر کسی نے غیر آباد زمین بغیر اجازت آباد کی تو وہ اس کے حاصلات سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔لیکن اگر امام یا حکومت وقت کو رفاہ عامہ کی خاطر اس کی ضرورت پیش آئے تو وہ حکما اس سے بے دخل کیا جاسکتا ہے۔اسی غرض سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کا ذکر آخر میں کیا گیا ہے۔ان سے ابو عبد اللہ بصری نے بصرے کی مفتوحہ اراضی میں سے ایک افتادہ اراضی آباد کرنے کی اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ عامل بصرہ کو لکھا کہ اگر وہ محفوظ اراضی میں سے ہے تو اسے اجازت دی جائے کیے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک اور قول مذکورہ بالا رائے کی تائید میں نقل کیا ہے : لَنَا رِقَابُ الْأَرْضِ یک یعنی غیر آباد اراضی کا حق ملکیت ائمۃ المسلمین کا ہے۔یہی رائے معقول ہے اور عدل و امن رکھنے کی ضامن ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۱۷۶) نظر بر وجوہ بالا آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَّيْتَةً فَهِيَ لَهُ کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص افتادہ زمین کو شرائط آبادکاری کے تحت آباد کرے گا، وہ اس کا حق دار ہوگا ؛ خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔اس ارشاد نبوی میں کسی کی تخصیص نہیں کی گئی اور ان شرائط میں سے اولوالامر کا اذن بھی ہے۔جہاں ابھی با قاعدہ نظام حکومت نہ ہوا ہو اور غیر آباد علاقے افتادہ اراضیات کی صورت میں پڑے ہوں؛ وہاں امام شافعی وغیرہ کے فتوے پر عمل کیا جائے گا۔دونوں نقطہ نظر مختلف حالات کے تحت قابل عمل ہیں۔باب ١٦ ٢٣٣٦ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ۲۳۳۶: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ که اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے موسیٰ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بن عقبہ سے موسیٰ نے سالم بن عبد اللہ بن عمر سے، عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ انہوں نے اپنے باپ (حضرت عبد اللہ بن عمر ) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ وَهُوَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فِي مُعَرَّسِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فِي رات کو بمقام ذی الحلیفہ نالے کے نشیب میں بخارى، كتاب المساقاة، باب لا حمى إلا لله ولرسوله، روایت نمبر ۲۳۷۰) شرح معانی الآثار للطحاوى، كتاب السير، باب إحياء الأرض الميتة، جز ۳ صفحه ۲۷۰)