صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 330 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 330

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۳۰ ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة بات کی نگرانی ہو سکے کہ آبادی والوں کے کام آسکنے والی زمین پر قبضہ کر کے اُن کے لئے دقت پیدا نہ کرے۔ امام ابو حنیفہ افتادہ زمین کی آبادی کے لئے بہر حال اجازت حاصل کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور اس رائے میں ان کا استدلال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہے جو بخاری میں مروی ہے : : لا لا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ لا یعنی محفوظ وظ جگہیں! جنہیں اللہ اور رسول کی ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۱۷۶) حق تملیک اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب اولوالامر کی اجازت ہو۔ اگر کسی نے غیر آباد زمین بغیر اجازت آباد کی تو وہ اس کے حاصلات سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ لیکن اگر امام یا حکومت وقت کو رفاہ عامہ کی خاطر اس کی ضرورت پیش آئے تو وہ حکماً اس سے بے دخل کیا جا سکتا ہے۔ اسی غرض سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کا ذکر آخر میں کیا گیا ہے۔ ان سے ابو عبد اللہ بصری نے بصرے کی مفتوحہ اراضی میں سے ایک افتادہ اراضی آباد کرنے کی اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ عامل بصره کو لکھا کہ اگر وہ محفوظ اراضی میں سے ہے تو اسے اجازت دی جائے ۔ امام ہائے ہی امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک اور قول مذکورہ بالا رائے کی تائید میں نقل کیا ہے : لَنَا رِقَابُ الْأَرْضِ کے یعنی غیر آباد اراضی کا حق ملکیت ائمۃ المسلمین کا ہے۔ یہی رائے معقول ہے اور عدل و امن رکھنے کی ضامن ہے۔ (عمدۃ القاری جز ۲۶ صفحہ ۱۷۶) نظر بر وجوہ بالا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَّيْتَةً فَهِيَ لَهُ کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص افتادہ زمین کو شرائط آباد کاری کے تحت آباد کرے گا، وہ اس کا حق دار ہوگا، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ۔ اس ارشاد نبوی میں کسی کی تخصیص نہیں کی گئی اور ان شرائط میں سے اولوالامر کا اذن بھی ہے۔ جہاں ابھی باقاعدہ نظام حکومت نہ ہوا ہو اور غیر آباد علاقے افتادہ اراضیات کی صورت میں پڑے ہوں؛ وہاں امام شافعی وغیرہ کے فتوے پر عمل کیا جائے گا۔ دونوں نقطه نظر مختلف حالات کے تحت قابل عمل ہیں۔ باب ١٦ ٢٣٣٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ٢٣٣٦: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ که اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بن عقبہ سے ، موسیٰ نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے، عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ انہوں نے اپنے باپ (حضرت عبد اللہ بن عمر ) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ وَهُوَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فِي مُعَرَّسِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فِي رات کو بمقام ذی الحلیفہ نالے کے نشیب میں (بخاری، کتاب المساقاة، باب لا حمى إلا الله ولرسوله، روایت نمبر ۲۳۷۰) (شرح معانی الآثار للطحاوى، كتاب السير، باب إحياء الأرض الميتة، جزء٣ صفحه ۲۷۰)