صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 323
صحيح البخاری جلدم ۳۲۳ ۴۱- كتاب الحرث والمزارعة حَنْظَلَةَ الرُّرَقِيَّ عَنْ رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ( بن سعید انصاری) سے روایت کی کہ انہوں نے حنظلہ قَالَ كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا زُرَقی سے سنا۔وہ حضرت رافع بن خدیج ہ سے روایت کرتے تھے۔انہوں نے کہا: مدینہ والوں میں وَكَانَ أَحَدُنَا يُكْرِي أَرْضَهُ فَيَقُوْلُ ہمارے کھیت سب سے زیادہ تھے اور ہم میں سے کوئی هَذِهِ الْقِطْعَةُ لِي وَهَذِهِ لَكَ فَرُبَّمَا اپنی زمین کرایہ پر دیتا اور (کرایہ پر لینے والے کو کہتا: أَخْرَجَتْ ذِهْ وَلَمْ تُخْرِجُ ذِهْ فَنَهَاهُمُ یه قطعه ( زمین ) میرا ہے اور یہ تمہارا۔تو کبھی ایسا ہوتا کہ ا یہ ٹکڑا پیداوار دیتا اور وہ ٹکڑا پیداوار نہ دیتا۔اس لئے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس طریق سے منع فرمایا۔اطرافه: ٢٢٨٦، ٢٣٢٧، ٢٣٤٤، ٢٧٢٢۔تشریح: مَا يُكْرَهُ مِنَ الشَّرُوطِ فِى الْمُزَارَعَةِ: مزارعت بھی چونکہ ایک معاہدہ کی صورت ہے۔اس لئے فریقین کی رضا مندی پر ہی اس کے انعقاد کا انحصار ہے اور اس معاہدے میں عام دستور کا لحاظ اور پابندی عہد لازمی ہے۔(کتاب البیوع باب ۹۵) لیکن شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے معاہدات میں ایک اصولی ہدایت فرمائی ہے، جسے محوظ رکھنا ازبس ضروری ہے۔لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرار - یعنی ان میں ایسی صورت نہ اختیار کی جائے ، جو کسی فریق کے لئے نقصان دہ ہو۔(ابن ماجہ، کتاب الأحکام، باب من بني في حقه ما يضر بجاره) اور فرمایا : لا غَرَر۔یعنی کسی قسم کا دھوکہ فریب نہ ہو۔آپ نے معاملات بیع و شراء میں بھی یہی تاکید فرمائی ہے۔(دیکھئے کتاب البیوع باب ۸۱،۴۸) حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت کے لیے بابے بھی دیکھئے۔باب ۱۳ إِذَا زَرَعَ بِمَالِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ وَكَانَ فِي ذَلِكَ صَلَاح لَّهُمْ اگر کوئی کسی کے روپیہ سے بغیر اجازت کھیتی باڑی کرے اور اس میں ان کی بہتری ہو اس کے بارے میں ارشادات ) ۲۳۳۳: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ ۲۳۳۳: ابراہیم بن منذر نے ہمیں بتایا۔ابوضمرہ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ حَدَّثَنَا نے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔مُوْسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَّافِعِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ایک بار تین شخص چلے