صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 321
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۲۱ ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة وَأَعِيْنُهُمْ وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ أَخْبَرَنِي يَعْنِي لوگوں کو زمینیں دیتا ہوں اور اُن کا فائدہ کرتا ہوں اور ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صحابہ میں جو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ نے مجھے بتایا ہے؛ یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا وَلَكِنْ قَالَ أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ نے کہ نبی ﷺ نے اس سے منع نہیں کیا۔ بلکہ فرمایا: اگر لَّهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرَجًا مَّعْلُومًا ۔ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یونہی مفت زمین دیدے تو یہ امر اس کا مقررہ محصول لینے سے بہتر ہے۔ اطرافه: ٢٣٤٢، ٢٦٣٤ صلى الله ۔ بَاب ۱۱ : الْمُزَارَعَةُ مَعَ الْيَهُوْدِ یہود کو زمین بٹائی پر دینا ۲۳۳۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۲۳۳۱ : محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ عَنْ عبد الله بن مبارک ) نے ہمیں خبر دی۔ عبید اللہ نے نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ أَعْطَى خَيْبَرَ الْيَهُودَ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو خیبر ( کی زمین ) اس شرط پر دی تھی کہ وہ اس میں محنت کریں اور اس میں وَيَزْرَعُوْهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ۔ کاشت کریں اور ان کے لئے پیدا وار میں سے نصف حصہ ہوگا۔ اطرافه: ۲۲۸۵، ۲۳۲۸، ۲۳۲۹، ۲۳۳۸، ۲۴۹۹، ٢۷۲۰، ٣١٥٢، ٤٢٤٨۔ تشريح : إِذَا لَمْ يَشْتَرِطِ السَّنِينَ فِي الْمُزَارَعَةِ: روایت نمبر ۲۳۲۹ جومتعد درندوں سے منقول ہے۔ کسی سند میں بھی خیبر کی بٹائی کے وقت کا ذکر نہیں۔ بلکہ اس کی بعض سندوں میں اس کے برعکس یہ صراحت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہود خیبر سے فرمایا : نَقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ ( كتاب الشروط، روایت نمبر ۲۷۳۰) یعنی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے، ہم اراضی خیبر کا ٹھیکہ تمہارے پاس رکھیں گے۔ باب ۱۷ کے ارشاد میں بھی وقت کی تعیین نہیں۔ اس کی ایک دوسری سند میں یہ الفاظ ہیں : مَا شِئْنا ۔ ( روایت نمبر ۲۳۳۸) جب تک ہم چاہیں گے۔ جمہور کا اس امر پر اتفاق ہے کہ کاشت کے ٹھیکے میں میعاد کی تعیین ضروری ہے۔ کیونکہ وہ عقود لازمہ میں سے ایک عقد ہے اور اگر ٹھیکہ میں کشمیھنی کی روایت کے مطابق اس جگہ وَ اغْنِيهِمْ “ کا لفظ ہے۔ (فتح الباری جزء ا جزء ۵ صفحه ۱۹)