صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 321 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 321

صحيح البخاري - جلدم ۳۲۱ ا - كتاب الحرث والمزارعة وَأُعِيْنُهُمْ وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ أَخْبَرَنِي يَعْنِي لوگوں کو زمینیں دیتا ہوں اور اُن کا فائدہ کرتا ہوں اور ابْنَ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صحابہ میں جو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ نے مجھے بتایا ہے؛ یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما وَلَكِنْ قَالَ أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ نے کہ نبی ﷺ نے اس سے منع نہیں کیا۔بلکہ فرمایا : اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یونہی مفت زمین دیدے لَّهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَّعْلُوْمًا۔اطرافه: ٢٣٤٢، ٢٦٣٤۔تو یہ امر اس کا مقررہ محصول لینے سے بہتر ہے۔بَاب ۱۱ : الْمُزَارَعَةُ مَعَ الْيَهُودِ یہود کو زمین بٹائی پر دینا ۲۳۳۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل :۲۳۳۱ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔عبید اللہ نے نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ أَعْطَى خَيْبَرَ الْيَهُوْدَ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوْهَا صلى اللہ علیہ وسلم نے یہود کو خیبر ( کی زمین) اس شرط پر دی تھی کہ وہ اس میں محنت کریں اور اس میں کاشت کریں اور ان کے لئے پیداوار میں سے وَيَزْرَعُوْهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا۔نصف حصہ ہوگا۔اطرافه ۲۲٨٥، ۲۳۲۸، ۲۳۲۹، ۲۳۳۸، ۲۴۹۹، ۲۷۲۰، ٣١٥۲، ٤٢٤٨۔تشریح: إِذَا لَمْ يَشْتَرِطِ السِّنِينَ فِى الْمُزَارَعَةِ: روایت نمبر ۲۳۲۹ جو متعد دسندوں سے منقول سعد ہے۔کسی سند میں بھی خیبر کی بٹائی کے وقت کا ذکر نہیں۔بلکہ اس کی بعض سندوں میں اس کے برعکس یہ صراحت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہود خیبر سے فرمایا: نَقِرُكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ (کتاب الشروط، روایت نمبر ۲۷۳۰) یعنی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے، ہم اراضی خیبر کا ٹھیکہ تمہارے پاس رکھیں گے۔باب ۱۷ کے ارشاد میں بھی وقت کی تعیین نہیں۔اس کی ایک دوسری سند میں یہ الفاظ ہیں : ما شئنا۔(روایت نمبر ۲۳۳۸) جب تک ہم چاہیں گے۔جمہور کا اس امر پر اتفاق ہے کہ کاشت کے ٹھیکے میں میعاد کی تعیین ضروری ہے۔کیونکہ وہ عقودلا زمہ میں سے ایک عقد ہے اور اگر ٹھیکہ میں کشمیهنی کی روایت کے مطابق اس جگہ واغنيهم “ کا لفظ ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۹)