صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 316
صحيح البخاری جلدم ۳۱۶ ا - كتاب الحرث والمزارعة دار اصل ہجرت کا ابتدائی زمانہ نہایت تنگی اور فقر وفاقہ کا تھا۔ایسی حالت میں بعض کی طرف سے مذکورہ بالا سوال ایک طبعی امر تھا کہ انہیں مدینہ کے نخلستانوں سے بعض درخت دیئے جائیں اور وہ ان سے گزارہ کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دخل دینا اس لئے پسند نہیں کیا کہ انصار مدینہ پر آپ کو حسن ظن تھا کہ وہ اپنے مہاجر بھائیوں سے حسن سلوک برتنے سے باز نہیں رہیں گے اور اس طرح مہاجرین کا وقار بھی قائم رکھا۔بَاب ٦ : قَطْعُ الشَّجَرِ وَالنَّخْلِ عام درختوں اور کھجوروں کا کاٹنا وَقَالَ أَنَسٌ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور حضرت انس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ۔کھجوروں کے درخت ( کاٹ دینے ) کا حکم دیا اور رَضِيَا وہ کاٹ دیئے گئے۔٢٣٢٦: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۲۳۲۶ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَّافِعِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ جویریہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عبداللہ بن عمر ) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے وَقَطَعَ وَهِيَ الْبَوَيْرَةُ وَلَهَا يَقُوْلُ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ و تغیر کی کھجور میں جلوا دیں اور کٹوادیں اور اس باغ کو بوسیرہ کا باغ کہتے تھے۔چنانچہ اس کے بارے میں حضرت حسان کا شعر ہے: حَمَّانُ : لَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيّ جو آگ جو میرہ باغ میں ہر طرف مشتعل ہوئی وہ بنی لوئی حَرِيْقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ کے سرداروں کے لئے بالکل معمولی سی بات تھی۔تشریح اطرافه: ۳۰۲۱، ٤۰۳۱، ٤٠٣٢، ٤٨٨٤۔قَطْعُ الشَّجَر وَالنَّخْل : سابقہ ابواب میں کا شتکاری کرنے اور درختوں کے لگانے کی فضیلت کا ذکر تھا۔لیکن اس باب میں بوقت ضرورت درختوں کے کاٹنے کی اجازت کا ذکر ہے۔ابتداء میں حضرت انس کی بیان کردہ حدیث کا ایک ٹکڑا بیان کیا گیا۔اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مسجد بنانے کے لئے بنی نجار سے جگہ لی۔وہاں کھجوروں کے درخت تھے ، جو آپ نے کٹوادیئے۔(دیکھئے کتاب الصلاة روایت نمبر ۴۲۸، کتاب الحج روایت نمبر ۱۸۶۸)