صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 314
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۱۴ ۴۱- كتاب الحرث والمزارعة رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى بَقَرَةِ الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا اور یوں گویا ہوا کہ میں فَقَالَتْ لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا خُلِقْتُ لِلْحِرَاثَةِ سواری کیلئے پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ ہل چلانے کیلئے پیدا کیا گیا یا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے اور ابو میں نے اور ابو بکر اور عمر قَالَ آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ نے اس کو مانا۔ (اسی طرح فرمایا: کوئی بھیڑیا؛ بکری وَأَخَذَ الذِّئْبُ شَاةً فَتَبِعَهَا الرَّاعِي فَقَالَ لے گیا۔ گڈریے نے اس کا پیچھا کیا تو بھیڑیے نے لَهُ الذِّئْبُ مَنْ لَّهَا يَوْمَ السَّبْعِ يَوْمَ اس سے کہا: درندوں کے زمانے میں اس کا محافظ کون لوم لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي قَالَ آمَنْتُ بِهِ أَنَا ہوگا ؟ جس وقت میرے سوا اس کا کوئی رکھوالا نہ ہوگا۔ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ۔ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَمَا آپ نے فرمایا: میں نے اور ابوبکر اور عمر نے اس کو مانا۔ ابو سلمہ کہتے تھے۔ حالانکہ وہ دونوں (یعنی حضرت هُمَا يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ۔ اطرافه ٣٤٧١، ٣٦٦٣، ٣٦٩٠۔ ابو بکر اور عمر ) اس دن مجلس میں نہ تھے۔ تشریح : اسْتِعْمَالُ الْبَقَرِ لِلْحِرَاثَةِ : زراعت کے تعلق میں یہ باب قائم کیا گیا ہےاور جو حدیث اس ضمن میں نقل کی گئی ہے وہ کتاب الانبیاء ( روایت نمبر (۳۴۷) اور کتاب المناقب ( روایت نمبر ۳۶۶۳) میں مفصل بیان ہوئی ہے۔ مسئلہ معنونہ سے تعلق صرف خُلِقْتُ لِلْحِرَاثَةِ کے الفاظ کا ہے۔ فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ : بعض نے واقعہ مذکورہ کو اسرائیلیات میں سے گردانا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۱۶۰) حضرت عروسة تھے۔ بکریوں کا ایک ریوڑ بھٹک گیا اور بھیڑیا صلى الله انس سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک میں وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے۔ رضي عنه ایک بکری لے گیا۔ جس کا پیچھا کر کے گڈریوں نے اُسے چھڑا لیا تو اُس وقت بھیڑیے نے کہا: طُعْمَةٌ أَطْعَمَنِيُّهَا اللَّهُ تَنْزِعُوْنَهَا مِنِّي فَبُهِتَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَا تَعْجَبُونَ ۔ یعنی ایک لقمہ تھا ، جو اللہ نے مجھے کھانے کو دیا۔ تم مجھ سے وہ بھی چھینتے ہو۔ جس پر لوگ حیران ہوئے ۔۔۔۔۔۔ ابن اثیر ابن اثیر کہتے ہیں: مذکورہ بالا واقعہ اہبان بن اوس اسلمی صحابی کے ساتھ پیش آیا تھا۔ (عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۱۶۰) جو صورت بھی ہو، روایت زیر باب با عتبار سند صحیح ہے اور باب کا جو عنوان باندھا گیا ہے، اس کی تائید میں صرف اتنے الفاظ ہیں کہ خُلِقْتُ لِلْحِرَاثَةِ - بیل نے کہا کہ میں کھیتی کے کام کے لئے پیدا کیا گیا ہوں ۔ لغت میں ہے کہ کسی چیز کی حالت کسی بات پر دلالت کرے تو اُسے حالت کسی بات پر دلالت کرے تو اُسے بھی قول سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسے امتلاً الْحَوْضُ وَقَالَ قَطْنِى (لسان العرب - قول ) کہ جب حوض میں پانی کافی مقدار میں پڑ چکا تو اس نے کہا کہ اب بس کرو اور پانی مجھ میں نہ ڈالو۔ یہاں حوض کا کہنا بزبانِ حال ہے۔ نیز بعض اوقات کشفا اہل حال لوگوں کو بعض نظارے دکھائے جاتے ہیں اور وہ جانوروں کو بولتے سن لیتے ہیں ۔ تفصیلی بحث کیلئے دیکھئے تشریح کتاب البیوع روایت نمبر ۲۰۹۵۔ عر دیکھئے دلائل النبوة للأصبهاني، روایت نمبر ۳۶، جزء اول صفحہ ۵۲۔