صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 288 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 288

صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۸۸ ۴۰ - كتاب الوكالة تشریح : الْوَكَالَةُ فِي الصَّرْفِ : پیڈ اور نوٹ روپیہ کے بدلے دوسرے کے لینے کو صرف پانچ صرف کہتے ہیں۔ ہیں۔ عنوان باب میں دو حوالے منقول ہیں۔ ایک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اور دوسرا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا۔ دونوں حوالے سعید بن منصور نے موصولاً نقل کئے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رہ کو ایک برتن دیا جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا، تا وہ اسے بازار میں لے جا کر بدلوائیں ۔ انہوں نے ایک یہودی صراف کے پاس وہ پیالہ اس پیالہ کے اصل وزن کی بجائے اس سے دو گئے وزن پر فروخت کر دیا۔ گویا پیالہ کی بنوائی وغیرہ بھی ساتھ ہی شمار ہو گئی۔ حضرت عمر اللہ نے ان سے فرمایا: یہ جائز نہیں۔ وا ر واپس جائیں اور اسی قدر ر وزن کے اندازہ پر فروخت کریں۔ چنانچہ وہ گئے۔ یہودی نے انے کہا کہ وہ اس ر سے زیادہ بھی دینے کو تیار ہے۔ مگر حضرت عمر یہ نہ مانے اور فرمایا نہ مانے اور فرمایا: إِلَّا بِوَزْنِهِ کہ وزن کے مطابق ہی حساب ہوگا۔ یعنی جس قدر سونا پیالے پر چڑھا ہوا ہے ، صرف اس کی قیمت سونے کے بھاؤ کے مطابق لی جائے گی ۔ باقی اگر چاندی کا ہے تو اس کی قیمت چاندی کے بھاؤ سے لی جائے گی ۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۶۰۶ ) گویا حضرت عمرؓ نے انتہائی احتیاط : نے انتہائی احتیاط برتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل کی جائے کہ سونے کے بدلہ میں اگر سونا لینا ہو تو برابر ہونا چاہیے اور نقد لینا چاہیے۔ (دیکھئے کتاب البیوع، روایت نمبر ۲۱۷۵،۲۱۷۴) اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی کیا۔ حسن بن سعد کی روایت ہے کہ انہوں نے ان کے پاس ور ہم امانت رکھوائے ۔ جب وہ اپنی امانت لینے کے لئے گئے تو اُن کے پاس دینار تھے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ان کے ساتھ اپنا آدمی بھیجا کہ منڈی میں نرخ کا پتہ کیا جائے۔ اگر اس حساب سے یہ دینار لینا چاہیں تو بہتر۔ ورنہ دینار کا درہم سے مبادلہ کر کے ان کو درہم دیئے جائیں ۔ ( فتح الباری جز یہ صفحہ ۶۰۶) ان دونوں حوالوں سے مسئلہ معنونہ کا مفہوم معین کیا گیا ہے کہ وکیل شریعت کی حدود کے اندر ہی تصرف کر سکتا ہے۔ ان سے تجاوز کرنا اُس کے لئے جائز نہیں۔ باب ٤ إِذَا أَبْصَرَ الرَّاعِي أَوِ الْوَكِيلُ شَاةَ تَمُوْتُ أَوْ شَيْئًا يَفْسُدُ ذَبَحَ أَوْ أَصْلَحَ مَا يَخَافُ عَلَيْهِ الْفَسَادَ جب چرواہا یا وکیل بکری مرتی دیکھے یا کوئی چیز بگڑتی دیکھے تو ( بکری ) ذبح کرلے اور وہ چیز جس کے خراب ہونے کا خوف ہو ، اسے درست کر دے ( تو یہ جائز ہوگا ) ٢٣٠٤: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۲۳۰۴: الحق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں سَمِعَ الْمُعْتَمِرَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعِ نے معتمر سے سنا۔ (کہتے تھے: ) عبید اللہ نے ہمیں بتایا۔ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ انہوں نے نافع سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت