صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 286 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 286

صحيح البخاري - جلد ۴ صَالِحًا وَإِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ } طرفه ۳۹۷۱ ۲۸۶ ۴۰ - كتاب الوكالة سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا۔ ہم تشريح : إِذَا وَكَّلَ الْمُسْلِمُ حَرْبيًا: وَگل کے معنے استحفظ بھی ہوتے ہیں۔ یعنی حفاظت سپرد کرنا۔ کہتے ہیں وَكَلْتُ فُلَانًا ۔ میں نے فلاں کو بطور محافظ مقرر کیا ۔ ( فتح الباری - شرح بابا، جزء ۴ صفحه ۶۰۳ ) انہی معنوں میں یہ باب ہے اور اس باب میں مسئلہ غیر مسلم کی وکالت کا ہے۔ خواہ اسلامی مملکت میں ہو یا غیر اسلامی مملکت میں جو برسر پیکار ہو۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بڑے پائے کے صحابی ہیں اور امیہ بن خلف مشہور دشمن اسلام ۔ دونوں کے درمیان معاہدہ حفاظت مال کا ہوا اور اس سے جواز وکالت کا مسئلہ مستنبط کیا گیا ہے۔ جہاں تک دونوں کی وکالت اور ذمہ واری کا تعلق ہے، اس سے جواز ثابت ہے۔ اس ضمن میں امام ابن حجر نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا اور آپ نے ناپسندیدگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ (فتح الباری جز ۴۶ صفحه ۱۰۵) حضرت بلال رضی اللہ عنہ اُمید کے غلام تھے اور وہ انہیں اسلام قبول کرنے کی وجہ سے سخت رکھ دیا کرتا تھا۔ آخر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس سے خرید کر ان کو آزادی دلائی۔ میدانِ جنگ میں اسے دیکھ کر حضرت بلال نے اپنے دشمن کو اس قابل نہیں سمجھا کہ وہ امن دیا جائے۔ ابن منذر کا خیال ہے کہ حربی مستامن (یعنی بر سر پیکار قوم کا کوئی فرد جو امن کا طالب ہو، اس) کی وکالت جائز ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۲۰۵ ) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا قول اسی لئے قابل اعتراض نہیں سمجھا گیا کہ جنگ بدر میں قریش کو امن دینے کا اعلان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہیں ہوا تھا اور آپ کی ہدایت يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمُ جنگ بدر کے بعد کی ہے لیے یعنی ایک ادنی مسلمان کسی کو پناہ دے تو اُس کی رعایت اور نگہداشت سب مسلمانوں پر واجب ہوتی ہے۔ اس روایت سے مسئلہ معنونہ کے جواز کی تائید ہوتی ہے۔ الصَّاغِيَة : صَغَى سے اسم فاعل ہے اور مراد اس سے مال اور سامان ہے۔ اسی طرح اہل وعیال اور نوکر وغیرہ۔ عمدة القاری جزء ۱۲۰ صفحه ۱۲۹) سَمِعَ يُوسُفَ صَالِحًا وَإِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ : مذکوره بالا روایت معنعن ہے۔ اس لئے یوسف کی سند کا حوالہ دے کر اس سقم کو دور کیا گیا ہے۔ یعنی صالح نے اپنے باپ ابراہیم سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ ان کے باپ حضرت عبد الرحمن بن عوف اپنا زخم ہمیں دکھایا کرتے تھے۔ یہ حصہ روایت اس نسخہ بخاری میں موجود تھا جو ابوذر نے مستملی سے نقل کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۱۰۵) یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ حاشیہ صفحہ ۶۰۴) (المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفة الصحابة، ذكر مناقب أبي العاص بن ربيع)