صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 271
صحيح البخاري - جلدم ٣٩- كتاب الكفالة جمہور کا بھی ہے۔بعض فقہاء نے اس میں ایک فرق ملحوظ رکھا ہے کہ اگر مالی ضمانت حال میں واجب الادا ہے اور وہ ادا نہیں ہوئی تو کفیل ذمہ وار ہے اور اگر وہ آئندہ وقت میں قابل ادا ہو اور مکفول عنہ فوت ہو جائے تو کفیل کفالت سے آزاد ہے۔مذکورہ بالا حوالہ جات کی تفصیل فتح الباری جز ۲۰ صفہ ۵۹۳٬۵۹۲ نیز عمدۃ القاری جز ۱۲۶ صفحہ ۱۱۴ ۱۱۵ میں دیکھئے۔باب ۲ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَالَّذِينَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاتُوْهُمْ نَصِيبَهُمْ اللہ عز وجل کا یہ ارشاد: جن سے تم نے قسم کھا کر عہد و پیمان کیا ہے ان کا حصہ ان کو دے دو۔(النساء: ٣٤) ۲۲۹۲ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بنُ مُحَمَّدٍ :۲۲۹۲ ملت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِدْرِيسَ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اور میں سے، اور میں نے طلحہ بن مصرف سے، طلحہ نے سعید بن جبیر سے، سعید طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت ابن عباس نے آیت وَلِكُلِّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ وَلِكُلّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ (النساء: (٣٤) میں مَوَالِيَ کے معنے وارثوں کے گئے ہیں (اور آیت قَالَ وَرَثَةً، وَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے ہر ایک کے لئے وارث بنائے ہیں اور آیت وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمُ (یعنی اور (النساء: ٣٤) قَالَ كَانَ الْمُهَاجِرُوْنَ وہ جن سے تم نے پختہ عہد و بیان کئے ہیں کی تشریح لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرِثُ الْمُهَاجِرُ حضرت ابن عباس یوں کرتے تھے کہ مہاجر جب مدینہ الْأَنْصَارِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ لِلْأُخُوَّةِ میں آئے تو مہاجر انصاری کا وارث ہوتا۔اس کے رشتہ دار وارث نہ ہوتے اور یہ اس برادرانہ تعلق کی وجہ الَّتِي آحَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قائم بَيْنَهُمْ فَلَمَّا نَزَلَتْ وَلِكُلِّ جَعَلْنَا کیا تھا۔لیکن جب آیت وَلِكُلِّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ نازل مَوَالِيَ نَسَخَتْ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِينَ ہوئی کہ ہر ایک کیلئے کچھ وارث بنائے ہیں تو (آیت وَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ کی یہ تشریح) منسوخ ہوگئی۔عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ إِلَّا النَّصْرَ وَالرِّفَادَةَ پھر حضرت ابن عباس نے وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالنَّصِيْحَةَ وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيْرَاثُ کے تحت آنے والوں کے متعلق فرمایا کہ اب صرف ان کی مدد اور خیر خواہی کی جاسکتی ہے۔ترکہ کی تقسیم کا حکم وَيُوْصَى لَهُ۔اطرافه: ٤٥٨٠ ٦٧٤٧۔ختم ہو گیا۔ہاں حق میں ان کے وصیت کی جاسکتی ہے۔