صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 270 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 270

البخاري - جلد ۴ ۲۷۰ ٣٩- كتاب الكفالة تشریح: الْكَفَالَةُ فِى الْقَرْضِ وَالدُّيُونِ بِالْأَبْدَانِ وَغَيْرِهَا : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو جب کسی مسئلے پر مستند حدیث نہیں ملتی تو عنوان باب ہی میں صحاح ستہ وغیرہ کی روایات اور ائمہ و فقہاء کے اقوال نقل کر کے مسئلہ زیر عنوان بیان کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔چنانچہ مسئلہ کفالت و ضمانت کے متعلق بھی انہوں نے یہی طریق اختیار کیا ہے۔عنوان باب میں کئی ایک حوالے جمع کر دئے ہیں اور ان کے آخر میں درج کردہ روایت کا اعادہ کیا ہے۔یہ روایت کتاب الزكاة ( باب ۶۵ ، روایت نمبر ۱۴۹۸) اور کتاب البیوع ( باب ۱۰، روایت نمبر ۲۰۶۳) میں گزر چکی ہے۔فَأَخَذَ حَمْزَةُ مِنَ الرَّجُل كُفَلَاءَ : عنوانِ باب میں چار حوالے نقل کئے ہیں۔پہلا حوالہ جو ابوزناد عبد اللہ بن ذکوان کی روایت کا ہے، طحاوی نے نقل کیا ہے۔حمزہ بن عمرو اسلمی صحابی ہیں ، جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحصیل صدقہ کے لئے قبیلہ سعد بن ہذیم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ایک شخص کو اپنی بیوی سے کہتے ہوئے سنا کہ وہ اپنے آزاد کردہ غلام کی زکوۃ بھی ادا کرے تو اس کی بیوی نے اسے کہا کہ وہ ادا کرے، کیونکہ وہ اس کا بیٹا ہے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بیوی کی لونڈی سے خاوند نے مباشرت کی تھی، جس سے لڑکا پیدا ہوا اور پھر اس کی بیوی نے وہ لڑکا آزاد کر دیا۔جب حضرت عمر کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے بجائے رجم کے سو ڈروں کی سزا دی۔اس واقعہ میں ابو حمزہ نے زیر الزام شخص سے شخصی کفالت لی تھی کہ اگر یہ بیان درست ثابت ہوا تو اسے حد لگائی جائے گی لیے مذکورہ بالا صحابی کے فعل سے کفالت کے جواز میں استنباط کیا گیا ہے۔اس روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ چونکہ وہ شخص نا واقف تھا، اس لئے انہوں نے رجم کی سزا تعزیر میں بدل دی۔اس تعلق میں دیکھئے عمدۃ القاری جز ۱۲ صفحه ۱۴۔اسْتَتِبُهُمْ وَكَفَلْهُمْ: دوسرا حوالہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی اور حضرت اشعث بن قیس کندی کے واقعہ کا ہے جو امام بیہقی اور ابن ابی شیبہ نے مفصل نقل کیا ہے کہ حارثہ بن مضرب نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔اتنے میں ایک مؤذن کی آواز مسجد بنی حنیفہ سے سنائی دی کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔یہ مؤذن عبد اللہ بن نواحہ تھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اسے بلوا کر اس کا سر قلم کیا اور اس محلہ میں جو مسیلمہ کے پیرو تھے، ان سے متعلق حضرت جریر بن عبد اللہ اور حضرت اشعث بن قیس نے مشورہ دیا کہ ان سے تو بہ کروائی جائے اور شخصی ضمانت کی جائے کہ وہ آئندہ ایسی غلطی نہ کریں گے لیے إِذَا تَكَفَّلَ بِنَفْسٍ فَمَاتَ فَلَا شَيْءٍ عَلَيْهِ : تیسرا حوالہ حماد بن ابی سلیمان کا ہے جو مسلم اشعری کے نام سے مشہور تھے۔یہ فقہاء کوفہ میں سے ہیں اور امام ابوحنیفہ کے اساتذہ میں سے تھے۔ان کے نزدیک اگر کسی شخص کی ضمانت دی جائے اور وہ فوت ہو جائے تو ضامن کفالت کے بوجھ سے آزاد ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۱۱۵) يَضُمُنُ : چوتھا حوالہ حکم بن عتیبہ کے فتویٰ کا ہے۔اگر کفالت مالی ہو تو کفیل بہر حال ذمہ دار ہے۔یہی مذہب (شرح معانی الآثار ، كتاب الحدود، باب الرجل يزنى بجارية امرأته، جزء ۳۰ صفحه ۱۴۷) سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الضمان، باب ما جاء فى الكفالة ببدن من عليه حق ، جزء 4 صفحہ ۷۷) مصنف ابن ابى شيبة، كتاب السير، باب ما قالوا فى الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به)