صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 266 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 266

صحيح البخاری جلدم ۲۶۶ ٣٨- كتاب الحوالة تَرَكَ شَيْئًا قَالُوْا لَا فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ لوگوں نے کہا: نہیں۔آپ نے اس کی نماز جنازہ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ پڑھی۔پھر اس کے بعد ایک اور جنازہ لایا گیا اور لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اس کی نماز جنازہ پڑھیے۔صَلِّ عَلَيْهَا قَالَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ آپ نے پوچھا: کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ عرض کیا گیا: قِيْلَ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا قَالُوْا جی ہاں۔آپ نے پوچھا: کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟ ثَلَاثَةَ دَنَانِيْرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ أُتِيَ لوگوں نے کہا: تین اشرفیاں۔آپ نے اس کا جنازہ بِالثَّالِثَةِ فَقَالُوْا صَلَّ عَلَيْهَا قَالَ هَلْ پڑھا۔اس کے بعد پھر تیسرا جنازہ لایا گیا اور لوگوں نے عرض کیا: اس کا جنازہ پڑھیں۔آپ نے پوچھا: کیا اس تَرَكَ شَيْئًا قَالُوْا لَا قَالَ فَهَلْ عَلَيْهِ نے کچھ چھوڑا؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔آپ نے پوچھا: دَيْنَ قَالُوْا ثَلَاثَةُ دَنَانِيْرَ قَالَ صَلُّوْا عَلَى اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے کہا: تین اشرفیاں۔صَاحِبِكُمْ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ صَلَّ عَلَيْهِ آپ نے فرمایا: تم ہی اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔يَا رَسُوْلُ اللَّهِ وَ عَلَيَّ دَيْنُهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ حضرت ابو قتادہ نے کہا: یارسول اللہ ! آپ اس کا جنازہ پڑھیں اور اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ طرفه ۲۲۹۵ ہوگی۔تب آپ نے اس کا جنازہ پڑھا۔تشریح : إِنْ أَحَالَ دَيْنَ الْمَيِّتِ عَلَى رَجُلٍ جَازَ : مسئلہ عنہ کے تعلق میں جس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ از قسم ضمانت ہے۔اس سے بعض فقہاء نے یہ استدلال کیا ہے کہ حوالہ اور ضمانت نتیجہ کے لحاظ سے ایک ہی بات ہے۔(فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۵۸۹) مگر ان دونوں میں یہ فرق ہے کہ ضمانت دینے والا جس کے لئے ضمانت دیتا ہو ، اُس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ اس کا مقروض بھی ہو۔ایک غیر مقروض شخص بھی ضمانت دے سکتا ہے مگر حوالہ کی صورت میں مُحِیل کا حق محال علیه پر واجب الاداء ہوتا ہے۔واقعہ مذکورہ بالا میں چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے ذمے جو حق تھا، وہ ضامن کی طرف منتقل کر دیا ہے؛ اس لئے امام بخاری نے اس انتقال ذمہ داری سے استنباط کرتے ہوئے عنوانِ باب قائم کیا ہے۔0000000000