صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 257 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 257

صحيح البخاری جلدم تشریح: - ۲۵۷ ۳۷- كتاب الإجارة خَرَاجُ الْحَجَّامِ جمہور کے نزدیک حجام (یعنی پچھنے لگانے والے) کی اُجرت جائز ہے مگر بعض فقہاء نے اسے اس لئے مکروہ قرار دیا ہے کہ یہ ادنی پیشہ ہے۔خصوصاً آزاد شریف انسان کے لئے یہ پیشہ نا پسند کیا گیا ہے جیسا کہ امام احمد بن حنبل کی رائے ہے۔جس کی وجہ حضرت محیصہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پیشہ کی بابت دریافت کیا تو آپ نے منع کیا اور فرمایا: اخْلَفَهُ نَوَاضِحَكَ یعنی اس سے اپنے اونٹوں کو چرانے کا انتظام کرو۔امام مالک نے بھی ان کی یہ روایت نقل کی ہے لیے کتاب البیوع باب ۲۵ روایت نمبر ۲۰۸۶ میں گزر چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خون وغیرہ کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔یہ ممانعت تحریمی نہیں بلکہ کراہیت کی ہے۔وہاں ان پیشوں کا ذکر ہے جواد نی قسم کے ہیں اور وہ حرام اور مکروہ نہیں، عند الضرورت اختیار کیے جاسکتے ہیں۔مگر ایک مسلم کو ذرائع معاش اختیار کرنے میں اپنا نصب العین اعلیٰ رکھنا چاہیے پیشہ ہو یا تجارت۔جواز اور عدم جواز دونوں میں تطبیق آسان ہے کہ معاشرہ کے مختلف طبقات کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ نے منع فرمایا اور اجازت دی۔اسی لئے عنوانِ باب میں کوئی معین فتویٰ مذکور نہیں بلکہ مطلق رکھا گیا ہے۔بَاب ۱۹ : مَنْ كَلَّمَ مَوَالِيَ الْعَبْدِ أَنْ يُخَفِّفُوْا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ جو شخص کسی غلام کے مالکوں سے کہے کہ وہ اس کے لگان کو کم کر دیں ۲۲۸۱ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۲۲۸۱ : آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ حُمَيْدِ الطَّوِيْلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید طویل سے، حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا حَجَّامًا فَحَجَمَهُ حجام غلام کو بلوایا اور اُس نے آپ کو پچھنے لگائے اور وَأَمَرَ لَهُ بِصَاعِ أَوْ صَاعَيْنِ أَوْ مُةٍ أَوْ آپ نے اُس کو ایک صاع یا دو صاع یا ( کہا: ) مدیا دومد ( اناج ) دینے کے لئے فرمایا اور اُس کے متعلق مُدَّيْنِ وَكَلَّمَ فِيْهِ فَخُفِّفَ مِنْ ضَرِيْبَتِهِ سفارش کی۔پس اُس کالگان کم کر دیا گیا۔اطرافه: ۲۱۰۲، ۲۲۱۰، ۲۲۷۷، ٢٢٨٠، ٥٦٩٦۔تشریح : مَنْ كَلَّمَ مَوَالِيَ الْعَبْدِ أَنْ يُخَفَفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ: اس باب میں بھی نافع ابوطیبی کی روایت ایک اور سند سے منقول ہے۔اس روایت سے متعلق شک کا اظہار کیا گیا ہے، آیا آپ نے ایک یا دو صاع غلہ دیا یا مہ۔یہ شک شعبہ کا ہے۔حمید الطویل کی یہی روایت کتاب البیوع باب ۳۹ میں گزر چکی ہے؛ وہاں صاع کا ذکر ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۲۱۰۲) مسئلہ کراہیت کے پیش نظر ایک اور سند سے وہی روایت دہرائی گئی ہے۔↓ (مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار، حديث محيصة بن مسعود، جزء۵ صفحه ۴۳۶) (موطا امام مالک، کتاب الجامع، باب ما جاء فى الحجامة وأجرة الحجام)