صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 238 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 238

صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۳۸ ۳۷- كتاب الإجارة يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ ان میں سے ایک عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا اپنے ساتھی سے کچھ بڑھ کر بیان کرتا تھا۔ ابن جریج نے عَلَى صَاحِبِهِ وَ وَغَيْرُهُمَا قَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ یہ حدیث اوروں سے بھی سنی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے انہیں بھی سعید بن جبیر) سے ہی نقل کرتے سنا ہے ۔ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ لِي انہوں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَنِي سے بیان کیا کہ حضرت ابی بن کعب نے مجھے بتایا۔ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تفسیر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَانْطَلَقَا ۔۔۔ کی خاطر یہ آیت پڑھی: وہ دونوں چل پڑے اور فَوَجَدَا ۔۔۔ جِدَارًا يُرِيدُ اَنْ انہوں نے ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی۔ سعید نے يَنْقَضَّ۔ قَالَ سَعِيدٌ بِيَدِهِ هَكَذَا وَ رَفَعَ کہا کہ (حضرت موسیٰ کے ساتھی نے) اپنے ہاتھ سے يَدَهُ * فَاسْتَقَامَ۔ قَالَ يَعْلَى حَسِبْتُ اشارہ کیا۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اُٹھایا (اور دیوار کو درست کیا ) تو وہ ٹھیک ہو گئی۔ یعلی نے کہا: میں سمجھتا سَعِيدًا قَالَ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ فَاسْتَقَامَ، ہوں کہ سعید نے یہ بھی کہا تھا کہ (حضرت موسیٰ کے لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ساتھی نے) اس (دیوار) کو اپنے ہاتھوں۔ (الكهف : (۷۸) قَالَ سَعِيدٌ أَجْرٌ نَّأْكُلُهُ۔ کیا تو وہ ٹھیک ہوگئی۔ (حضرت موسیٰ نے کہا: ) اگر تم وں سے درست چاہتے تو اس کام پر مزدوری لے لیتے ۔ سعید نے کہا: ایسی اُجرت جس سے ہم کھاتے ۔ اطرافه: ۷۴، ۷۸، ۱۲۲ ، ۲۷۲۸، ۳۲۷۸، ۳۴۰۰، ٤٠۱، ٤٧٢٥ ، ٤٧٢٦ ، ٤٧٢٧ ، ٦٦٧٢ ، ٧٤٧٨۔ تشريح : إِذَا اسْتَأْجَرَ أَجِيْرًا عَلَى أَنْ يُقِيمَ حَائِمًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ جَازَ : حضرت ابی بن کعب کی روایت کا ایک حصہ اس باب میں نقل کیا گیا ہے جو بخاری، کتاب التفسير، سورة الكهف، باب روایت نمبر ۴۷۲۵ میں مفصل بیان ہوا ہے۔ سورہ کہف میں اہے ۔ سورہ کہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک مکاشفہ کا ذکر ہے۔ جس کی تشریح کیلئے دیکھئے تفسیر کبیر مصنفہ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ تفسیر سورة ا اللہ عنہ تفسیر سورۃ الکہف، جلد چہارم صفحه ۴۶۵ تا ۴۶۵۰ تا ۴۹۰ امام بخاری یہ باب اس لئے لائے ہیں کہ کسی کو کام پر لگاتے ہوئے جہاں مدت کی تعیین ضروری ہے وہاں کام کا ذکر کرنا بھی بہتر ہے تا کہ بعد میں جھگڑے کی کوئی صورت نہ پیش آئے۔ عمدۃ القاری میں اس جگہ وَرَفَعَ يَدَيْهِ کے الفاظ ہیں۔ (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحہ ۸۷ ) رم