صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 219
صحيح البخاری جلدم ۲۱۹ ۳۵- كتاب السلم رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غنیمت کا حصہ فَكَانَ يَأْتِيْنَا أَنْبَاطُ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّأْمِ پاتے تھے تو شام کے نعلی ہمارے پاس آتے اور ہم فَتَسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيْرِ گندم، جو اور منفی لینے کی غرض سے مقررہ وقت تک وَالزَّيْتِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى قَالَ قُلْتُ کے لئے ان کو پیشگی رقم دے دیتے۔کہا: میں نے پوچھا أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٍ أَوْ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ زَرْعٌ کہ ان کی زراعت ہوتی تھی یا نہ؟ تو ان دونوں نے کہا: قَالَا مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ۔ہم اس کی نسبت ان سے نہیں پوچھا کرتے تھے۔اطرافه: ٢٢٤٢-٢٢٤٣، ٢٢٤٤-٢٢٤٥۔تشریح : السَّلَمُ إِلَى أَجَلٍ مَّعْلُومٍ: باب کے عنوان سے ظاہر ہوتاہے کہ بیع سلم میں حال کے جواز سے متعلق جو فتوی دیا گیا ہے وہ درست نہیں کیونکہ بیع سلم کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ رقم پیشگی دی جائے۔قرآن مجید کے ارشاد إِذَا تَدَا يَنتُم بِدَيْنِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى (البقرة: (۲۸۳) میں چونکہ میعاد کی تصریح ہے، اس لئے نص صریح کے بموجب بیع سلم میں بھی میعاد کا معین ہونا ضروری ہے اور اس کا تعلق مستقبل سے ہے۔وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو سَعِيدٍ وَالْحَسَنُ وَالْأَسْوَدُ : عنوانِ باب میں صحابہ کرام میں سے حضرت ابن عباس ، حضرت ابو سعید خدری کے اور تابعین میں سے حسن بصری اور اسود کے فتاوی اسی امر کی تائید میں ہیں جو علی الترتیب امام شافعی ، عبد الرزاق، سعید بن منصور اور ابن ابی شیبہ نے موصولاً نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزیہ صفحہ ۵۴۸) لا بَأْسَ فِي الطَّعَامِ الْمَوْصُوفِ بِسِعُرِ : عنوانِ باب میں حضرت عبداللہ بن عمر کے قول کا حوالہ ہے ایک اور اختلاف کے پیش نظر نقل کیا گیا ہے کہ بیع سلم میں اگر نرخ معین کیا جائے تو یہ سود ہو گا۔مفصل حوالہ جات کیلئے دیکھئے فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۵۴۹،۵۴۸ - عمدۃ القاری جز ۱۲۶ صفحه ۷۰۶۹۔اس باب میں وہی روایتیں دہرائی گئی ہیں جن کا ذکر پہلے دو ابواب میں گزر چکا ہے مگر مختلف سندوں سے۔فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق یہاں البیب ہے (فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۵۴۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔(مسند الشافعي، ومن كتاب البيوع، جزء اول صفحه ۱۳۸) (مصنف عبد الرزاق، كتاب البيوع، باب لا سلف إلا الى أجل معلوم، جزء ۸ صفحه) مؤطا امام مالک، کتاب البیوع، باب السلفة في الطعام)