صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 216 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 216

صحيح البخاری- جلد ۴ ۲۱۶ ۳۵- كتاب السلم واپس کرنے کا فیصلہ کیا اور فرمایا: وَلَا تُسْلِمُوا فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُه - تا وقتیکہ کھجور میں پختہ نہ ہوں ، ان کی بیع سلم نہ کیا کرو با کرو۔ یہ روایت بلحاظ سند کمزور ہے اور اسی لئے امام بخاری نے و بخاری نے وہ نظر انداز کر دی ہے اور باب ۴۳ کی روایتیں ان کے نزدیک مستند ہیں، جن سے پایا جاتا ہے کہ جو درخت ابھی پکے نہیں اور نہ ان کے پھل کی مقدار کا اندازہ ہو سکتا ہے، ان کی بیع سلم کی صورت ایسی ہے جیسی غیر موجود شئے کا سودا کرنا۔ ( فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۵۴۶ ) (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۶۸ ) باب ۴،۳ کے عنوان مختلف ہیں مگر روایات نمبر ۲۲۴۶، ۲۲۵۰،۲۲۴۸ جو حضرت ابن عباس سے مروی ہیں، ان کا مضمون ایک ہی ہے۔ حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباس کے مذکورہ بالافتوی کو اکثر فقہاء نے بیع سلم حال پر محمول کیا ہے بشر طیکہ کھجوروں کا پھل پختہ اور قابل اندازہ ہو، ورنہ بیع غرر کی صورت ہوگی جو جائز نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۵۴۶) امام شافعی کے نزدیک بیع سلم کی صحت کے لئے اُدھار کا ہونا ضروری ہے اور اس میں معین شے کا سودا معین مقدار میں کیا جائے۔ جائے۔ جو موجود ہو ، اس اس ۔ کے لین دین کا معاملہ عام بیچ ۔ متصور ہوگی ، بیع سلم نہیں کہلائے گی ۔ بیع سلم کا اطلاق ان کے نزدیک اسی شئے پر ہوگا جو موجود نہیں اور بعد میں لی جائے گی ۔ اسی فقیہا نہ اختلاف کے پیش نظر باب ۳ و ۴ قائم کئے گئے ہیں۔ دیکھئے فتح الباری شرح باب ۳ جزء ۴۰ صفحه ۵۴۴، ۵۴۵ بَابه : الْكَفِيلُ فِي السَّلَمِ بیع سلم میں ضامن ٢٢٥١ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ ۲۲۵۱ : محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا ، (کہا) کہ حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ يعلى بن عبید بن امیہ ) نے ہم کو بتایا۔ انہوں نے کہا ) إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ که امش نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابراہیم رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتِ اشْتَرَى (شخصی) سے، ابراہیم نے اسود ( بن یزید ) سے، اسود رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا مِّنْ يَهُودِيَ بِنَسِيْئَةٍ وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَّهُ مِنْ حَدِيدٍ۔ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے اُدھار پر غلہ خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس رہن رکھی ۔ إطرافه: ۲۰۶۸، ۲۰۹۶ ، ۲۲۰۰، ۲۲۵۲، ۲۳۸۶، ٢٥٠۹ ، ٢٥١٣، ٢٩١٦، ٤٤٦٧۔ (سنن ابی داؤد، كتاب البيوع، باب فى السلم في ثمرة بعينها) (سنن ابن ماجه، كتاب التجارات، باب اذا أسلم في نخل بعينه لم يطلع)