صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 217
صحيح البخاری جلد ۴ - ۲۱۷ ۳۵- کتاب السلم بَاب ٦ : الرَّهْنُ فِي السَّلَم بیع سلم میں رہن ٢٢٥٢: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبِ :۲۲۵۲ محمد بن محبوب نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عبد الواحد بن زیاد ) نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا ) قَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيْمَ الرَّهْنَ فِي که اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ابراہیم (مخفی) السَّلَفِ فَقَالَ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ عَنْ کے پاس بیع سلم میں رہن سے متعلق ہم نے آپس میں ذکر کیا تو انہوں نے کہا: اسود بن یزید ) نے مجھ سے عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ که بی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ مقررہ يَهُودِي طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ مَّعْلُومٍ ميعاد تک کے لئے لیا اور لوہے کی ایک زیرہ اس کے وَارْتَهَنَ مِنْهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ۔پاس رہن رکھی۔اطرافه: ٢٠٦٨، ۲۰۹٦، ۲۲۰۰، ۲۲۵۱، ۲۳۸۶، ۲۰۰۹، ٢٥۱۳، ٢٩١٦، ٤٤٦٧۔تشریح: الْكَفِيلُ فِی السَّلَم : باب نمبر ۵ ۶ میں ایک ہی واقعہ سے دو الگ الگ مسئلے کفالت اور رہن کے اخذ کئے گئے ہیں۔کفالت شخصی بھی ہو سکتی ہے اور جائیداد کی بھی۔روایت نمبر ۲۲۵۲ میں صراحت ہے کہ ابراہیم نخعی کے پاس بیع سلم سے متعلق رہن کی بابت ذکر ہوا تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ بیان کیا ، جس سے پایا جاتا ہے کہ پیشگی رقم کو محفوظ کرنے کی غرض سے کفالت لی جاسکتی ہے۔بعض فقہائے حنابلہ کے نزدیک جنس زیر بیع سلم کی کفالت جائز نہیں۔لیکن امام احمد بن حنبل کا مذہب جو مشہور ہے، اس کی رو سے جائز ہے۔بَاب : اَلسَّلَمُ إِلَى أَجَلٍ مَّعْلُومٍ بیع سلم میں میعاد مقرر ہونی چاہیے وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ وَأَبُو سَعِيدٍ حضرت ابن عباس، حضرت ابوسعید ( خدری) حسن وَالْحَسَنُ وَالْأَسْوَدُ۔وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ (بصری) اور اسود کا یہی قول ہے۔اور حضرت ابن عمر لَا بَأْسَ فِي الطَّعَامِ الْمَوْصُوْفِ بِسِعْرِ نے کہا: اس غلہ کی بیع سلم میں کوئی حرج نہیں جس کی مَّعْلُوْمٍ إِلَى أَجَلٍ مَّعْلُوْمٍ مَا لَمْ يَكُنْ صفت بیان کر دی جائے اور نرخ اور میعاد مقرر کردی