صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 215
صحيح البخاری جلدم - ۲۱۵ ۳۵ - کتاب السلم ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ السَّلَمِ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (کہا) کہ ہم کو (محمد بن جعفر ) غندر نے بتایا، کہا کہ ہم عَنْ عَمْرِو عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِي سَأَلْتُ سے شعبہ نے بیان کیا۔انہوں نے عمرو بن مرہ) سے، انہوں نے ابو البختری سے روایت کی۔(انہوں نے کہا ) کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ فِي النَّخْلِ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى الله کھجور کے درخت پر جو پھل لگا ہو اُس ) کی بیع مسلم کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى جاسکتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے پھل بیچنے يَصْلُحَ وَنَهَى عَنِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ سے منع کیا ہے، تا وقتیکہ وہ پکنا شروع ہو جائے۔اور نَسَاءً بِنَاجِزِ وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسِ فَقَالَ چاندی کو سونے کے بدلے میں ( بھی اس طرح) بیچنے سے منع فرمایا ہے کہ ایک طرف اُدھار ہو اور دوسری طرف نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نفذ ہو۔اور میں نے حضرت ابن عباس سے پوچھا تو انہوں بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ أَوْ يُؤْكَلَ نے کہا کہ نبی ﷺ نے کھجور ( کے پھل ) بیچنے سے منع وَحَتَّى يُوْزَنَ قُلْتُ وَمَا يُوْزَنُ قَالَ فرمایا جب تک کہ وہ کھائے یا کھانے کے قابل ہو جائے اور یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جاسکے۔میں نے کہا: وزن کیا جانے سے کیا مراد ہے؟ تو ایک شخص نے جو ان کے رَجُلٌ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْزَرَ۔پاس (بیٹھا ہوا) تھا، کہا: یہاں تک کہ اس کا اندازہ ہو سکے۔اطراف الحديث :٢٢٤٩ ۱٤٨٦، ۲۱۸۳، ۲۱۹٤، ۲۱۹۹، ۲۲۷۔اطراف الحدیث ۲۲۵۰ ٢٢٤٦ ٢٢٤٨ تشریح : السَّلَمُ فِی النَّخْلِ : اس بارے میں حاکم ، بیٹی اور ابن حبان نے نقل کیا ہے کہ زید بن سعد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ فلاں باغ کی کھجور میں مجھے فلاں وقت تک اُدھار پر فروخت کر دیں تو آپ نے فرمایا: ایسا نہیں ہو سکتا۔اَبِیعُكَ أَوْسَقًا مُسَمَّاةً إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى یعنی معین وسق مقررہ میعاد کے لئے تجھے بیچ سکتا ہوں ابو داؤد اور ابن ماجہ نے بھی اس بارے میں بعض روایتیں نقل کی ہیں کہ ایک شخص نے ایک سال کے لئے کھجوروں کے باغ کا بطور بیع سلم سودا کیا۔اس سال پھل نہ لگا اور جھگڑے کی صورت پیدا ہوئی۔مشتری نے کہا: پھل لگنے کی شرط تھی۔بائع نے کہا کہ صرف اس سال کا سودا ٹھہرایا گیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روپیہ (المستدرک علی الصحيحن كتاب معرفة الصحابة، ذكر إسلام زيد بن سعنة، جزء۳ صفحه ۷۰۰) (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب البيوع، ابواب السلم، باب لايجوز السلف حتى يكون بصفة معلومة لا تتعلق بعين) (صحيح ابن حبان ، كتاب البر والإحسان ذكر الاستحباب للمرء أن يأمر بالمعروف من هو فوقه، جزء اول صفحه ۵۲۲)