صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 214 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 214

صحيح البخاری جلدم ۲۱۴ ۳۵- كتاب السلم في النحل : روایت نمبر ۲۲۴۶ کے آخر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے جواب پر ان سے پوچھا گیا: وَأَيُّ شَيْءٍ يُوزَنُ - کس چیز کا وزن کیا جائے۔یعنی وزن کئے جانے سے کیا مراد ہے؟ اس کا جواب انہوں نے فقرہ حَتَّى يُحْرَزَ سے دیا ہے۔یعنی جو محفوظ کی جائے۔یہ لفظ بعض روایتوں میں يُحْزَر ہے جو خزر سے ہے، جس کے معنے قیاس کرنے یا اندازہ کرنے کے ہیں۔امام ابن حجر نے اسی لفظ کو ترجیح دی ہے۔(فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۵۴۵) دونوں لفظوں سے جواب کا مفہوم واضح ہے کہ جب تک کھجور کی مقدار معین اور محفوظ صورت میں نہ ہو، اُدھار پر اس کی خرید و فروخت جائز نہیں۔مزید وضاحت کے لیے اگلے باب (نمبر۴) کی تشریح بھی دیکھئے۔بَاب ٤ : السَّلَمُ فِي النَّخْلِ کھجور کے درخت سے متعلق بیع سلم ٢٢٤٧-٢٢٤٨: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ۲۲۴۷ - ۲۲۴۸ : ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن مرہ) سے ، عمرو نے ابو بهتری (سعید بن فیروز ) سے حدیث بیان کی۔أَبِي الْبَخْتَرِي قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ السَّلَم فِي النَّخْلِ کھجور کے درختوں (کے پھلوں) کی بیع سلم کرنے کی نسبت فَقَالَ نُهِيَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَصْلُحَ پوچھا تو انہوں نے کہا: بھجور (کے پھل) کی خرید و فروخت وَعَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ نَسَاءً بِنَاجِرٍ۔وَسَأَلْتُ اس وقت تک منع ہے کہ وہ کھانے کے لائق ہو جائے۔اور چاندی کی خرید و فروخت بھی ایسے طور پر منع ہے کہ ابْنَ عَبَّاسِ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ایک طرف تو (چاندی) نقد ہو اور دوسری طرف اُدھار ہو فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور میں نے حضرت ابن عباس سے (بھی درخت پر ) عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ أَوْ کھجور کی بیع سلم کی نسبت پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی خرید و فروخت سے منع فرمایا يَأْكُلَ مِنْهُ حَتَّى يُوْزَنَ۔ہے تاوقتیکہ وہ کھانے کے قابل ہو جائے۔یا یہ کہا کہ وہ اسے خود کھائے، یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جا سکے۔اطراف الحدیث : ٢٢٤ ۱٤٨٦ ، ۲۱۸۳ ، ۲۱۹٤، ۲۱۹۹، ۲۲۴۹ اطراف الحديث :۲۲۴۸ ۲۲٤٦، ۲۲۰۰ ٢٢٤٩ - ٢٢٥٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ۲۲۴۹ - ۲۲۵۰ : ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا،