صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 119
صلى صحيح البخاری جلد ۴ عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ وَلَا يَبِعُ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلَّا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ۔ (دار قطنی، كتاب البيوع، روایت نمبر ۳۱، جز ۳۶ صفحه) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیلامی کی خرید وفروخت سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کی بیچ پر بیع نہ کرے ، سوائے اموال غنیمت و اموال میراث کے۔ غرض مذکورہ بالا اختلاف ۱۱۹ ۳۴- كتاب البيوع کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ بَاب ٦٠ : النَّجْشُ دھوکا دینے کے لئے قیمت بڑھانا وَمَنْ قَالَ لَا يَجُوزُ ذَلِكَ الْبَيْعُ اور جس نے کہا کہ ایسی بیع جائز نہیں اور حضرت ابن وَقَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى النَّاجِشُ آكِلُ رِبًا ابی اوفی نے کہا: ایسا فریب دینے والا سود خوار اور خَائِنٌ وَهُوَ خِدَاعٌ بَاطِلٌ لَا يَحِلُّ قَالَ خائن ہے اور یہ دھوکہ دہی ہے جو باطل ہے، جائز النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَدِيعَةُ نہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دھوکہ دہی فِي النَّارِ وَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ آگ میں لے جانے کا باعث ہے اور جس نے کوئی أَمْرُنَا فَهُوَ رَدُّ۔ ایسا کام کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ مردود ہے۔ ٢١٤٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۱۴۲: عبداللہ بن مسلمہ ( قعنبی ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّی انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّجْشِ۔ کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فریب دہی سے طرفه: ٦٩٦٣۔ قیمت بڑھانا منع فرمایا ہے۔ کرنا اوه تشریح : النجش : کسی شخص کا سی سامان کی قیمت دوسرے سے زیادہ دین کا اظہار کا ایک حقیقت وہ چیخریدنا نہیں چاہتا نبش کہلاتا ہے اور شوافع کے نزدیک ایسی بیچ فتح نہ ہوگی ، برقرار رہے گی لیکن بائع گنہگار ہوگا۔ حنابلہ کے نزدیک یہ بیع باطل ہے اور قابل فتح ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۴۴۹ ) یہی مضمون اس باب کا ہے۔ وَمَنْ قَالَ لَا يَجُوزُ ذَلِكَ الْبَيْعُ : امام ابن حجر کے نزدیک الفاظ مَنْ قَالَ لَا يَجُوزُ ذَلِكَ الْبَيْعُ سے عبدالرزاق کی بیان کردہ روایت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، جس میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے اعلان کروانے کا