صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 721
حيح البخاري - جلد ٣ ۷۲۱ ٣٣- كتاب الاعتكاف تشریح : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُخْرُج: بعض فقہا نے یہ جائز قراردیا ہے کہ انکشاف شروع کر کے فتح کیا جا سکتا ہے۔(فتح الباری شرح باب ۶ جز به صفحه ۱۳۵۱، شرح باب ۱۸ جز ۴۰ صفحه ۳۶۲) لیکن انہوں نے اس جواز کے لئے روایت نمبر ۲۰۴۵ سے جو استدلال کیا ہے وہ درست نہیں۔عنوانِ باب میں امام بخاری نے تصریح کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں داخل نہیں ہوئے تھے بلکہ صرف ارادہ اعتکاف کیا تھا جو نسخ نہیں بلکہ ملتوی ہوا تھا۔چنانچہ بعد میں وہ ارادہ پورا کیا گیا۔مذکورہ بالا روایت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ اعتکاف کے لئے اُس جگہ جارہے تھے جو آپ کے اعتکاف کے لئے تیار کی گئی تھی کہ اتنے میں چھولدار یوں پر نظر پڑی اور سبب معلوم ہونے پر آپ کوٹ آئے پیشتر اس کے کہ آپ اعتکاف گاہ میں داخل ہوتے۔باب ۱۹ : الْمُعْتَكِفُ يُدْخِلُ رَأْسَهُ الْبَيْتَ لِلْغُسْلِ معتکف جو اپنا سر دھلوانے کے لئے حجرے کے اندر کرتا ہے ٢٠٤٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۲۰۴۶ عبد الله بن محمد ( مسندی) نے ہم سے بیان کیا ، : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ (کہا) کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔معمر نے الزُّهْرِي عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجُلُ سے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت رَضِيَ کی کہ وہ نبی ﷺ کے سر میں کنگھی کیا کرتی تھیں، النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ اس حال میں کہ وہ حائضہ ہوتیں اور آپ مسجد میں حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ معتکف ہوتے اور حضرت عائشہ اپنے حجرے میں ہی وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا يُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ۔رہتیں۔آپ اپنا سر اُن کی طرف بڑھا دیتے۔اطرافه ،۲۹۵، ۲۹۶، ۳۰۱، ۲۰۲۸، ۲۰۲۹، ۲۰۳۰، ۲۰۳۱، ۵۹۲۵ تشریح: الْمُعْتَكِفْ يُدْخِلُ رَأسَهُ الْبَيْتَ لِلْغُسُلِ : بابہ میں حضرت عائشہ کی یہ روایت گذر چکی ہے اور وہاں نہانے دھونے کے بارے میں عنوان قائم کیا گیا ہے۔یہاں خاتمے پر اس مضمون کا اعادہ بظاہر بے جوڑ معلوم ہوتا ہے۔دراصل اس باب میں فقہاء کی توجہ آنحضرت ﷺ کی غایت درجہ احتیاط کی طرف منعطف کی گئی ہے کہ بحالت اعتکاف مسجد میں خلوت نشینی پر مداومت ضروری ہے اور اس سے ادھر اُدھر نکلنا جائز نہیں۔اگر یہ جائز ہوتا تو آنحضرت ما سر دھلوانے یا کنگھی کرانے میں اس قدر تکلف سے کام نہ لیتے جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ مسجد سے بالکل ملحق تھا۔آپ کی یہ احتیاط بتاتی ہے کہ اعتکاف کے لئے مسجد میں قیام ضروری رکن ہے اور جب آپ نے بغرضِ اصلاح ایک دفعہ اعتکاف ترک کیا تو آپ نے نیت صیح نہیں کی بلکہ دعا بدستور قائم رہی اور شوال میں پوری کی۔یہ مضمون ہے آخری ابواب کا اور اس تعلق میں حضرت عائشہ کی محولہ بالا روایت ایک دوسری سند سے دُہرائی گئی ہے۔