صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 720
صحيح البخاري - جلد ۳ ۷۲۰ ٣- كتاب الاعتكاف بَاب ۱۸ : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَخْرُجَ وہ شخص جو اعتکاف کا ارادہ کرے پھر مناسب سمجھے کہ اعتکاف سے نکل آئے ( تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟) ٢٠٤٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ :۲۰۴۵ ابو الحسن محمد بن مقاتل (مروزی) نے ہم سے أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا بیان کیا کہ عبداللہ بن مبارک ) نے ہمیں بتایا۔ اوزاعی الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ نے ہمیں خبر دی، کہا کہ یحی بن سعید (انصاری) نے مجھ سے سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ بیان کیا، کہا: عمرہ بنت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ رسول اللہ عَنْهَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عليه نے ذکر فرمایا کہ آپ رمضان کے آخری عشرہ میں وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ اعتکاف بیٹھنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضرت عائشہ نے آپ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ سے اجازت مانگی ۔ آپ نے انہیں اجازت دے دی عَائِشَةُ فَأَذِنَ لَهَا وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ اور حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ سے کہا کہ وہ اُن کے عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا فَفَعَلَتْ فَلَمَّا لئے بھی اجازت طلب کریں۔ چنانچہ انہوں نے اجازت رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ أَمَرَتْ لی۔ جب حضرت زینب بنت جحش نے یہ دیکھا تو انہوں بِبِنَاءٍ فَبُنِيَ لَهَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ نے بھی ٹھکانا بنانے کا حکم دے دیا جو اُن کے لئے بنایا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى گیا۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم انْصَرَفَ إِلَى بِنَائِهِ فَأَبْصَرَ الْأَبْنِيَةَ فَقَالَ جب نماز پڑھ چکے اور اپنے جائے قیام کو واپس چلے تو مَا هَذَا قَالُوا بِنَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ آپؐ نے اُن ڈیروں کو دیکھا، پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں وَزَيْنَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہ نے کہا کہ یہ عائشہ حفصہ اور زینب اور زینب کے ڈیرے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا انہوں نے اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِرَّ أَرَدْنَ بِهَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ۔ اطرافه ٢۰۳۳، ٢٠٣٤، ٢٠٤١۔ سے نیکی کا ارادہ کیا ہے؟ میں نے اعتکاف نہیں بیٹھنا اور آپ (گھر) لوٹ گئے ۔ جب عید الفطر ہوئی تو آپ شوال کے دس دن اعتکاف بیٹھے ۔