صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 719
صحيح البخاري - جلد ٣ 219 ٣٣- كتاب الاعتكاف بَاب :۱۷ : الِاعْتِكَافُ فِي الْعَشْرِ الْأَوْسَطِ مِنْ رَمَضَانَ رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف بیٹھنا ٢٠٤٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي :۲۰۴۴ عبد اللہ بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي حَصِيْنِ که ابوبکر ( بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ ابوحين ( عثمان بن عاصم ) سے، انہوں نے ابو صالح اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (ان) سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَشْرَةَ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف بیٹھا کرتے تھے أَيَّامٍ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيْهِ مگر جس سال آپ نے وفات پائی۔آپ میں دن اعْتَكَفَ عِشْرِيْنَ يَوْمًا۔اطرافه: ٤٩٩٨۔تشریح معتکف ہوئے۔الْإِعْتِكَافُ فِي الْعَشْرِ الْأَوْسَطِ : اس سے قبل باب ۱۳٫۹ میں بیان کیا جا چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درمیانی عشرے میں اعتکاف بیٹھے۔پھر ایک رویا کی بناء پر آخری عشرے میں اُسے جاری رکھا۔اب یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ بیس دن کا اعتکاف آپ کی زندگی کے آخری رمضان میں تھا اور یہ وہ رمضان تھا۔جس میں حضرت جبریل کے ساتھ قرآن مجید بھی دودفعہ دہرایا گیا۔اس میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اعتکاف رمضان کے آخری عشرہ سے مخصوص نہیں بلکہ دوسرے عشرے میں بھی ہو سکتا ہے اور آخری عشرے میں اعتکاف افضل ہے۔روایت زیر باب سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اعتکاف سنت مؤکدہ ہے۔ابوداؤد اور ابن ماجہ وغیرہ نے اس بارہ میں حضرت ابی بن کعب کی ایک روایت بھی نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو رمضان میں سفر کی وجہ سے اعتکاف ترک فرمانا پڑا۔اس لئے اس کے بعد رمضان میں آخری عشرے کے علاوہ درمیانی عشرے میں بھی اعتکاف بیٹھے۔(ابو داؤد، کتاب الصوم، باب الاعتكاف) (ابن ماجه، کتاب الصيام، باب ماجاء فى الاعتكاف یہ روایت ابن حبان وغیرہ نے صحیح قرار دی ہے۔(صحیح ابن حبان، كتاب الصوم، باب الاعتكاف وليلة القدر ، ذكر الاستحباب للمرء لزوم الإعتكاف في شهر رمضان، ذكر الخبر المدحض قول من زعم ان هذا الخبر تفرد به حميد الطويل، جزء ۸ صفحه ۴۲۲ ، روایت نمبر ۳۶۶۳) امام ابن حجر کے نزدیک مشار الیہ روایتیں مختلف واقعات سے متعلق ہیں۔ایک دفعہ سفر کی وجہ سے اعتکاف ترک ہوا اور وہ پورا کیا گیا۔بیویوں پر ناراض ہونے کی وجہ سے بجائے رمضان کے شوال میں اعتکاف بیٹھے اور پھر آخری رمضان میں حضرت جبریل کی معیت میں قرآن مجید کا دو دفعہ دور ہوا اور اس کی وجہ سے آپ بیس دن اعتکاف میں رہے۔(فتح الباری جز پہ صفہ ۳۶۲) عنوانِ باب میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ میں دن مسلسل بھی اعتکاف بیٹھا جا سکتا ہے۔